تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 560 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 560

کے قول کو بطور حجت پیش کیا ہے، انبیاء علیہم السلام اور بزرگانِ امت کے اقوال سے سند لی ہے ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عقائد پر اعتراضات کی تردید میں کتاب اللہ کی آیات کو پیش کیا ہے، نیز احادیث کو بطور سند ذکر کیا ہے، حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کے افعال کو بطور دلیل اور مثال بیان کیا ہے۔ظاہر ہے کہ ہماری غرض اس اسلوب بیان سے یہ ہے کہ تا مخالفین ان مقدسوں اور بزرگوں کے اقوال و اعمال کی مثالوں سے فیصلہ کر سکیں کہ اگر حضرت مسیح موعود کے قول و فعل پر اعتراض درست قرار دیا جائے گا تو ان بزرگوں کے قول و فعل پر بھی وہ اعتراض وارد ہوگا۔اور جب یہ مسلم ہے کہ ان بزرگوں کا قول اور ان کا فعل صحیح اور درست تھا تو لازماً ماننا پڑے گا کہ آج کے معترضین کے حضرت مسیح موعود پر اعتراضات بھی غلط اور نادرست ہیں۔ہماری مراد ان مثالوں کے پیش کرنے سے ہرگز یہ نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے کہ ہم ان بزرگوں کے قول و فعل پر کوئی تنقید کر رہے ہیں۔ہمیں اس وضاحت کی اس لئے ضرورت پیش آئی تا بعض ہوشیار علماء ان مثالوں کے پیش کرنے پر عوام کو یہ نہ کہہ دیں کہ دیکھو یہ احمدی تو اپنے امام کی سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے مساوات اور ہمسری کا دعویٰ کر رہے ہیں حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہمارے مدنظر صرف اعتراض کا دفاع ہوتا ہے نہ کچھ اور۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمسری یا مساوات کا دعوی تو کلمہ کفر ہے۔اس سلسلہ میں اخبار صدق جدید لکھنو کے ایڈیٹر مولانا عبد الماجد صاحب کا مندرجہ ذیل بیان خاص توجہ سے پڑھے جانے کے قابل ہے۔آپ لکھتے ہیں :۔ظاہر ہے کہ آج اُمت کے کسی عامی کے عمل سے کوئی سوال کیا جائے گا تو وہ سند میں اکابر امت یا خود سرور کائنات ہی کی مثال پیش کرے گا اور اس کے سوا کس چیز سے سہارا ڈھونڈے گا۔اگر اس کے معنی دعوئی مساوات اور ہمسری کے ہیں تو پھر تقلید، اتباع، پیروی کس کو کہیں گے۔اور ان کے لئے کوئی لفظ کہاں سے لایا جائے گا۔عجیب مصیبت ہے کہ اپنی ذاتی رائے سے کوئی عمل کر گزریئے تو طعنہ اکابر سے بے نیازی، آزادی، بے قیدی خود رائی کا سنئے اور اگر سند بزرگوں سے لائیے تو الزام یہ سنئے کہ یہ ان سے دعوی مساوات رکھتا ہے اور اپنے آپ کو ان کا ہم پلہ ٹھہراتا ہے۔“ (صدق جدید لکھنو 4 نومبر ۱۹۶۴ صفحه ۲) (560)