تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 556 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 556

اس کے لئے ممکن ہے پابندِ احکام اسلام ہو، اور تقوی طہارت کے امور میں کوشش کرنے والا ہو۔اور مسلمان ، خدا کو ایک جاننے والا ، اور اس کے رسول پر سچا ایمان لانے والا ہو اور نیز حقوق عباد غصب کرنے والا نہ ہو۔“ (الوصیت صفحہ ۲۴) ہر دو اقتباس واضح طور پر معترض کی تردید کر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اعلان فرماتے ہیں کہ اولین شرط تقوی وطہارت اور اعمال صالح ہے۔اگر کوئی خادم دین ہو خواہ اس کی جائداد نہ بھی ہو وہ بھی اس جگہ دفن ہوسکتا ہے اور صرف دسواں حصہ دے دینا ہرگز کافی نہیں۔لیکن معترض پٹیالوی رکس جرات ، بے باکی، بلکہ بے حیائی سے کذب بیانی کر رہا ہے کہ وصیت کنندہ صرف دسواں حصہ دیدے خواہ اس کے اعمال کی کچھ ہی حالت ہو۔اُف ! اتنا جھوٹ۔(۲) احادیث نبویہ میں مسیح موعود کے متعلق لکھا ہے کہ وہ اپنے اصحاب کے جنت کے درجات ان سے بیان کرے گا۔يُحَدِّثُهُمْ بِدَرَجَاتِهِمْ فِي الْجَنَّةِ مسلم باب ذکر الدجال جلد ۲ صفحه (۵۱۵) اس پیشگوئی کو اللہ تعالیٰ نے عملاً بہشتی مقبرہ سے پورا کر دیا ہے۔اس انتظام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کی تصدیق مطلوب ہے نہ کہ حضور کی تکذیب۔ان بزرگوں کی اس میں تو ہین کیسے ہو سکتی ہے؟ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ، بالخصوص اہل بدر کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ تم کچھ کرو، اللہ نے تم کو بخش دیا ہے۔یعنی تم اب بہر حال نیک کام کرو گے؟ گو یا وہ جنتی تھے۔( بخاری کتاب المغازی جلد ۳ صفحہ ۵) پھر خاص دس صحابہ کو آپ نے جنت کی بشارت دی جن کو عشرۂ مبشرہ کہتے ہیں۔لکھا ہے "عَشَرَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فِي الْجَنَّةِ - أَبُو بَكْرٍ 556