تفہیماتِ ربانیّہ — Page 557
فِي الْجَنَّةِ وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ - الحديث ( معجم صغیر طبرانی صفحہ ۱۳) پھر خود حضور نے ایک قبرستان جنة البقیع (اُردو میں بہشتی مقبرہ) تجویز فرمایا اور صحابہ کو کہا۔آنْتُمْ شُهَدَاء الله في الأرضِ۔( بخاری کتاب الجنائز) کہ تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔جس کی نیک ثناء کرو گے وہ جنتی ہوگا۔علاوہ ازیں قرآن پاک کا عام اعلان ہے اِنّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ انْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (سورہ تو بہ رکوع ۱۴) کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید کر ان کو جنت دے دی ہے۔ناظرین کرام ! ان تمام حقائق کی موجودگی میں بہشتی مقبرہ پر اعتراض کرنا یا اسے انبیاء وصلحاء کی تو ہین بتانا اپنی سفاہت کا اظہار کرنا ہے۔بہشتی مقبرہ تو گزشته آسمانی اعلانات کا عملی مظاہرہ ہے۔اور موجودہ زمانہ میں یہ بہت بڑی قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی پر پورا یقین ، اس کے رسول پر کامل یقین ، تمام ایمانیات پر پختہ یقین ہو، اعمال صالحہ کے لئے زبردست رغبت پائی جاوے تب انسان اس مادہ پرستی کے زمانہ میں اس مسلسل قربانی کی توفیق پاسکتا ہے۔مبارک ہیں وے جو اِس راز کو سمجھیں اور عملاً ان الله اشتری والی آیت کا ثبوت دیں۔(۳) معترض لکھتا ہے کہ :- الوصية میں مرزا صاحب نے دفن ہونے والوں کے لئے متقی ہونے کی بھی شرط لگائی ہے۔لیکن یہ محض ایک چال ہے۔ورنہ متقی ہونے کی تحقیقات ہونی بھی بوقت واصلات چندہ یا دفن ہونے سے پہلے ضروری تھی۔“ (عشره صفحه ۱۴۸ حاشیه) (557)