تفہیماتِ ربانیّہ — Page 545
لَمْ يَكُونُوا هَكَذَا “ (زاد المعاد جلد ۲ صفحہ ۴،۳) ترجمہ - آنحضرت قبائل کے پاس جا کر کہتے کہ کلمہ توحید پر ایمان لاؤ تم کامیاب ہوجاؤ گے اور عرب کے بادشاہ بن جاؤ گے اور عجم بھی تمہارے اطاعت گزار ہو جائیں گے۔اگر تم ایمان لاؤ گے تو جنت میں بادشاہ ہو گے۔ابولہب (حضور کا چچا ) آپ کے پیچھے پیچھے یہ کہتا پھرتا تھا کہ اس کی اطاعت نہ کرنا یہ تو بے دین اور کذاب ہے۔پس قبائل آنحضرت کی دعوت کو بُری طرح رہ کر دیتے اور کہتے کہ تیرے خاندان اور قبیلہ کے لوگ چونکہ تجھ سے خوب واقف ہیں، وہ گھر کے بھیدی ہیں ، اسلئے وہ تیری پیروی نہیں کرتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی دعوت الی اللہ کرتے رہتے اور کہتے اے خدا! اگر تو چاہے تو یہ ایسے نہ ہوں۔“ اس تاریخی شہادت سے ظاہر ہے کہ پہلے بھی بعض نادانوں نے یہی اعتراض کیا تھا مگر وہ باطل پر تھے۔اسی طرح آج کے یہ معترض بھی باطل پر ہیں۔ابولہب نے تو بہ نہ کی اور ان الزامات کی تردید نہ کی۔لیکن قبلہ میر صاحب احمدیت میں نہایت اخلاص، عقیدت اور جاں سپاری سے داخل ہوئے اور خدمات سلسلہ بجالا کر اُن تمام باتوں کی تلافی فرما دی۔رضی اللہ عنہ وارضاہ۔کیا یہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کی دلیل ہے یا محل اعتراض؟ تدبر ! وو فقرہ ہشتم۔" مرزا صاحب کا توکل علی اللہ (۱) معترض پٹیالوی لکھتا ہے :- ”نکاح کے متعلق کس زور شور سے الہام ہیں جن میں شک اور شبہ کو دخل بھی نہیں ہو سکتا۔لیکن ان الہامات کے ساتھ خارجی اور دنیاوی تدابیر سے بھی مرزا صاحب بے فکر نہ تھے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۳۸) اس کے بعد چند خطوط کا تذکرہ کیا ہے جو حضرت نے مرزا احمد بیگ صاحب وغیرہ (545)