تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 544 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 544

اللہ تعالیٰ کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔المعـ لن میر ناصر نواب نقشہ نویس دہلی۔“ ( تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۷) اس اعلان کے بعد ان نظموں کو شائع کر کے دھوکا دینا پرلے درجہ کی کمینگی۔حضرت عمر فاروقی نے رسول پاک کے خلاف کس قدر زور لگایا حتی کہ توار نیک آپ سے فقل کے لئے چل کھڑے ہوئے ، مگر جب وہ تائب ہو گئے سب گناہ ڈھل گئے۔حضرت یوسف کے بھائیوں نے ان يُسْرِقُ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِنْ قَبْلُ (يوسف رکوع ۹) میں حضرت یوسف کو چور کہا لیکن جب توبہ کی تو لا تغرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ سے مخاطب ہوئے۔حضرت میر صاحب موصوف کی نظموں کو محض حضور کے رشتہ دار ہونے کے باعث حجت ٹھہرانا اس وقت بھی غلط تھا۔حضرت نوح کی بیوی، حضرت لوظ کی بیوی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا ابولہب کے حالات پر غور کرو اور پھر بتاؤ کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ یہ لوگ گھر کے بھیدی تھے اس لئے ایمان نہ لائے؟ لیکن حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ نے جب خود سابقہ خیالات کی تردید کر دی ہے اور توبہ کر لی اور حضرت مرزا صاحب علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور پورے اخلاص و فدائیت سے زندگی گزاری تو کیا پھر بھی اُن کے سابقہ اشعار کو بیان کرنا بد دیانتی نہیں ہے؟ کفار عرب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف یہی عذر پیش کیا کرتے تھے کہ آپ کے رشتہ دار جو آپ کے زیادہ واقف ہیں وہ ایمان نہیں لاتے لکھا ہے :- " وَيَقُولُ ( صلى الله عليه وسلم) يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إلَّا اللهُ تُفْلِحُوْا وَتَمْلِكُوا بِهَا الْعَرَب وَيَدِيَّنَ لَكُمْ بِهَا الْعَجَمُ فَإِذا آمَنْتُمْ كُنْتُمْ مُلُوكاً فِي الْجَنَّةِ وَآبُؤلَهَبٍ وَرَاءَهُ يَقُولُ لَا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ صَابِيٌّ كَذَّابُ فَيَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلَّمَ أقْبَحَ الرَةِ وَيُؤْذُونَهُ وَيَقُولُونَ أَسْرَتُكَ وَعَشِيْرَتُكَ أَعْلَمُ بِكَ حَيثُ لَمْ يَتَّبِعُوكَ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْ شِئْتَ (544)