تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 535 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 535

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حقامیت اسلام کے متعلق بلحاظ اعلیٰ والکمل تعلیمات اور زندہ معجزات قریباً اشی کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ان تمام دلائل کو بالتفصیل ذکر فرمایا ہے۔گویا وہ ارادہ اس رنگ میں پورا ہو گیا۔افسوس کہ یہ لوگ جو قرآن محکم کی آیات میں بھی نسخ کے قائل ہیں اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک حکم دے کر پھر اس کو بدل دیا۔تورات، زبور اور انجیل خدا کا کلام تھیں مگر قرآن مجید کے ذریعہ ان سب کو منسوخ کر دیا گیا۔اتنی سی بات پر معترض ہورہے ہیں کہ حضرت اقدس نے براہین احمدیہ کی تکمیل کے متعلق جو ارادہ ظاہر فرمایا تھا اسی طرح کیوں نہ ہوا۔افسوس! روایات میں لکھا ہے کہ قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا۔آپ نے فرما یا کل آؤ میں تم کو خبر دوں گا۔لیکن دس پندرہ دن گزر گئے اور اس بارہ میں آپ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی۔جس سے قریش نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو خلاف وعدہ کا الزام دیا اور سیہ بات آپ پر بہت شاق گزری۔تمام مفسرین اس واقعہ کو نقل کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وعدہ کے وقت انشاء اللہ نہ کہا تھا اسلئے ایسا ہو گیا۔ہم اس واقعہ کی صحت کے متعلق اس جگہ بحث کرنا نہیں چاہتے لیکن سب غیر احمدی علماء اس کو درست مانتے ہیں۔چنانچہ تفسیر کمالین کے الفاظ ہیں :- عَن مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَتِ الْيَهُودُ لِقُرَيْشِ اسْتَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ وَعَنْ أَصْحَابِ الْكَهْفِ وَذِى الْقَرْنَيْنِ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ ائْتُونِي غَدًا أخْبِرُكُمْ وَلَمْ يَسْتَثْنِ فَابْطَأَ عَنْهُ الْوَحْيُ بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا حَتَّى شَقَ عَلَيْهِ وَكَذَّبَتْهُ قُرَيْش “ (برحاشیه جلالین مجتبائی صفحہ ۲۴۱) کیا معترض پٹیالوی اور اس کے ہمنوا کہیں گے کہ (نعوذ باللہ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلاف وعدہ کیا؟ اگر یہ خلاف وعدہ نہیں اور یقینا نہیں کیونکہ اس کا سرانجام پانا اللہ کی مشیت پر موقوف تھا تو پھر براہین احمدیہ کی تکمیل کا ارادہ ظاہر کرنے میں حضرت اقدس پر خلاف وعدہ کرنے کا الزام کیونکر عائد ہو سکتا ہے؟ (535)