تفہیماتِ ربانیّہ — Page 536
حضرت جبریل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کرتے ہیں کہ میں رات کو ضرور آؤں گا لیکن رات گزر جاتی ہے اور وہ نہیں آتے۔پھر جب دوسرے وقت آئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- لَقَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِيْ اَنْ تَلْقَانِيَ الْبَارِحَةَ قَالَ أَجَلُ وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ۔“ (مشکوۃ باب التصاویر صفحه ۳۸۵) کہ آپ نے گزشتہ رات آنے کا وعدہ کیا تھا مگر نہ آئے؟ اس نے کہا وعدہ تو ٹھیک کیا تھا لیکن ہم اُس گھر میں داخل نہیں ہوا کرتے جہاں گنتا یا صورت ( بت وغیرہ) ہو۔“ ناظرین کرام ! غور فرمائیں کہ کیا یہ کہنا درست ہے کہ جبریل نے خلاف وعدہ کیا ؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ایک نئی صورت حالات پیدا ہوگئی تھی۔اسی طرح حضرت اقدس پر بھی براہین احمدیہ کے متعلق اعتراض کرنا بددیانتی ہے بالخصوص جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرما دیا ہے :- ” ہم اپنے گزشتہ اشتہار میں لکھ چکے ہیں اور اب بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ تالیف کتاب بوجہ الہامات الہیہ دوسرا رنگ پکڑ گیا ہے اور اب ہماری طرف سے کوئی ایسی شرط نہیں کہ کتاب تین سو جز و تک ضرور پہنچے بلکہ جس طور سے خدا تعالیٰ مناسب سمجھے گا کم یا زیادہ بغیر لحاظ پہلی شرائط کے اس کو انجام دے گا کہ یہ سب کام اُسی کے ہاتھ میں اور اسی کے امر سے ہے۔“ (اشتہار واجب الاظهار تمبر (۱۸۸ء) براہین احمدیہ کا صرف کچھ حصہ شائع ہونے اور اس کا زیادہ تر حصہ شائع نہ ہو سکنے کی نسبت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک پرانا رؤ یا خود براہین ہی میں شائع ہوا اور شائع بھی اس کے تیسرے حصہ میں ۱۸۸۲ء میں ہوا تھا۔جس کے بعد چوتھا حصہ ۱۸۸۴ ء میں شائع ہوا۔اس رویا سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اس کتاب کا صرف کچھ حصہ شائع ہوگا اور بیشتر حصہ اس کتاب کی (536