تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 526 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 526

گالی اور اظہارِ واقعہ میں فرق سخت کلامی کی دو قسمیں ہیں۔اگر اس سے محض دوسرے کی دل آزاری مقصود ہو نیز وہ کلام کذب ہو تو اُسے گالی کہتے ہیں لیکن اگر بوقتِ ضرورت مناسب الفاظ میں کسی حقیقت کا اظہار کیا جائے تو یہ امر واقعہ کہلائے گا۔ہم اس فرق کے متعلق پیشتر ازیں بھی لکھ چکے ہیں۔انبیاء اور خدا کے برگزیدہ بندے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں تو اگر چہ وہ سبقت نہ کریں لیکن حالات کے ماتحت ان کو مجبور لوگوں کی اندرونی و بیرونی امراض کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔وہ ایک ہمدرد طبیب کی طرح روحانی مریضوں کو ان کے مرض سے آگاہ کرتے ہیں۔ناواقف سمجھتے ہیں کہ ہم کو گالیاں دی جارہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نئی اور جھوٹی تہذیب کے دلدادہ لوگ سب نبیوں پر قریباً اسی قسم کا الزام لگاتے ہیں۔ایک دوسری صورت اظہارِ امر واقعہ کی وہ ہے جو روز مرہ عدالتوں میں پیش آتی ہے۔حج ایک مجرم کے خلاف فیصلہ کرتے وقت اس پر فردِ جرم لگانے اور اس کے جرم کا اظہار کرنے پر مجبور ہے۔نبی دنیا میں حج ہو کر آتا ہے۔بشیر اور نذیر ہونا اس کا ہم معنی ہے۔اس کا کام ہے کہ دنیا کے لوگوں پر راستی سے عدالت کرے۔مسیح موعود کے لئے حکم عدل کا لفظ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔اس تقریر سے ظاہر ہے کہ گالی اور امر واقعہ میں فرق ہے۔مرسلین و انبیاء کی سخت کلامی “ دوسری شق میں آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :۔میں نے اس ( سعد اللہ لدھیانوی) کی بدزبانی پر بہت صبر کیا اور اپنے تئیں روکا کیا۔لیکن جب وہ حد سے گزر گیا اور اس کے اندرونی گند کا پل ٹوٹ گیا تب میں نے نیک نیتی سے اس کے حق میں وہ الفاظ استعمال کئے جو مل پر چسپاں تھے۔اگر چہ وہ الفاظ جیسا کہ مذکورہ بالا الفاظ میں مندرج ہیں بظاہر کسی قدر سخت ہیں مگر وہ دشنام دہی کی قسم میں سے نہیں ہیں بلکہ واقعات کے مطابق ہیں اور عین ضرورت کے وقت لکھے گئے ہیں۔ہر ایک نبی علیم تھا مگر ان سب کو واقعات کے مطابق ایسے (526)