تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 518 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 518

ایام اصلح میں بھی کہاں مذکور ہے؟ ایام اصلح کی اس عبارت کے سیاق الکلام میں افغان قوم کا بنی اسرائیل ہونا ثابت کرنا مد نظر ہے مگر معترض اس سے مریم صدیقہ کا قبل از نکاح یوسف سے حاملہ ہونا بتلاتا ہے a الٹی سمجھ کسی کو بھی ایسی خدا نہ دے دے آدمی کو موت بد ادا نہ دے اس اقتباس میں صرف اسرائیلی رواج کا ذکر ہے اور اس کی مثال میں تاریخی واقعہ حضرت مریم اور یوسف نجار کا قبل نکاح پھرنا مذکور ہے۔ایسی عورت کے معمولی ساتھ پھرنے کو ( جسے ایام اصلح کی اس عبارت میں بھی صدیقہ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے ) زنایا بد فعلی پر محمول کرنا اپنی خباثت کا ثبوت دینا ہے۔ممکن ہے کہ معترض پٹیالوی نے ایام اصلح فارسی کی عبارت کو سامنے رکھ کر یہ غلط بیانی کی ہو، تو اول تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نہیں ہے بلکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کا ہے جیسا کہ ٹائیٹل پیج صفحہ ۲ پر مذکور ہے۔دوم جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل کتاب اُردو میں مطبوعہ موجود ہے تو فارسی کو پھر اپنی اُردو میں بیان کر کے دھوکہ دینا کہاں تک روا ہے؟ اتنی زحمت اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ سوم فارسی عبارت میں لفظ اختلاط ہے جو عام ہے۔اس جگہ اصل کے لحاظ سے اس کے معنی صرف حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھر نا“ کے ہوں گے۔الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت میں کوئی ایسا جملہ نہیں جس میں حضرت مریم پر زد پڑتی ہو۔یہ صرف معترض پٹیالوی کی یہودیت نوازی ہے۔ہاں اگر یہ سوال ہو کہ حضرت مریم کے یوسف کے ساتھ پھرنے کا ثبوت کیا ہے تو لیجئے ابن الاثیر کی مشہور تاریخی کتاب الکامل کی عبارت پڑھ لیجئے۔لکھا ہے :- وو ا قد ذكَرُ نَا حَالَ مَرْيَمَ فِي خِدْمَةِ الكَنِيسَةِ وَكَانَتْ هِيَ وَابْنُ عَمِّهَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْن مَا ثَانَ النَّجَّارُ يليان خِدمَةَ الْكَنِيسَةِ وَكَانَ يُوسُفُ حَكِيمًا نَّجَّارًا يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ وَيَتَصَدَّقُ بِذَالِكَ وَقَالَتِ النَّصَارَى (518)