تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 513 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 513

مسیح کی حقیقی صورت نہیں کہہ سکتے بلکہ اس کو ان کی خیالی تصویر ہی کہیں گے اور اندر میں صورت اگر بعد وضاحت اس خیالی تصویر پر اعتراض کیا جاوے تو وہ اعتراض اہلِ دانش کی نظر میں حضرت عیسی علیہ السلام پر نہ ہو گا تا اس سے تو ہین انبیاء کی شق پیدا کی جاوے۔اس تصریح کے ساتھ مولانا موصوف نے ایک جگہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے متعلق لکھا ہے :- اہلِ ہند جو تمام ولایتوں کے لوگوں کے نامردہ پین میں امام ہیں ان میں کا بھنگی اور چمار بھی اس سہولت سے بیٹی نہیں دیتا جس طرح حضرت امیر نے اپنی دختر مطہرہ کو حضرت عمرؓ کے حوالہ کر دیا۔آپ بھی دیکھتے رہے اور صاحبزادے بھی۔پھر صاحبزادوں میں ایک وہ بھی تھے کہ جنہوں نے تین ہزار فوج جزار کا مقابلہ کیا۔حالانکہ وہ زمانہ ضعیفی اور تحمل کا تھا اور بہن کے نکاح کے وقت عین شباب تھا۔“ بدية الشیعہ صفحہ ۱۲۷ مطبوعہ مطبع ہاشمی) یہ عبارت ناگوار ہے لیکن اہلِ دیو بند کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو جواب وہ اس الزامی عبارت کا دے سکتے ہیں وہی جواب ہمارا ہے۔معترض پٹیالوی لکھتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب پر جب اس باب میں اعتراض ہوا تو یہ کہ دیا کہ :- یہ اعتراض بائیبل کی بناء پر کئے گئے ہیں۔بھلے آدمی بائیل تو محترف ہے اس کے بیان سے سند پکڑنے کی آپ کو کیوں ضرورت پیش آئی جبکہ قرآن کریم حضرت عیسیٰ کی پاکی بیان کرتا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۱۳) صاف ظاہر ہے کہ حضرت نے ان اعتراضات کو بطور الزام خصم پیش کر کے بائیبل کو سند نہیں پکڑا اور نہ ہی حضرت عیسی علیہ السلام کی پاکیزگی کا انکار فرمایا ہے بلکہ نصاری کو اُن کے مزعومہ نقش کی طرف توجہ دلائی ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ یسوع پر ان اعتراضات کی وہی ضرورت تھی جو مولانا محمد قاسم صاحب بانی مدرسہ دیو بند کو مندرجہ بالا عبارت کی (513)