تفہیماتِ ربانیّہ — Page 512
الزامی جوابات اور بانی مدرسہ دیوبند آپ نے ایک جگہ بڑی وضاحت سے تحریر فرمایا ہے کہ :- اگر قدر شناسوں سے حد سے گزرجانے والے بڑھ جایا کریں ، اور قدر شناس دشمن سمجھے جایا کریں تو نصاریٰ حضرت عیسی کے محب ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت حضرت کے دشمن، ہونے چاہئیں۔غور کر کے اگر دیکھیں مُفرِط في المحبة اس کا محب نہیں ہوتا جس کی محبت کا مدعی ہوتا ہے۔بلکہ اپنی خیالی تصویر کا محبت ہوتا ہے۔نصاری جو دعوی محبت حضرت عیسی علیہ السلام کرتے ہیں تو حقیقت میں ان سے محبت نہیں کرتے۔کیونکہ دارو مدار ان کی محبت کا خدا کے بیٹا ہونے پر ہے۔سو یہ بات حضرت عیسی میں تو معلوم البتہ ان کے خیال میں تھی۔اپنی خیالی تصویر کو پوجتے ہیں اور اسی سے محبت رکھتے ہیں۔حضرت عیسیٰ کو خداوند کریم نے ان کی واسطہ داری سے برطرف رکھا ہے۔ایسے ہی شیعہ بھی اپنی خیالی تصویر سے محبت کرتے ہیں۔آئمہ اہلبیت سے محبت نہیں کرتے۔اس محبت پر محبان قدر شناس کو دشمن اہلبیت سمجھنا ایسا ہی ہے جیسا نصاری بزعم خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی اُمت کو دشمن کیسے سمجھتے ہیں۔“ (رسالہ ہدیۃ الشیعه صفحه ۲۴۴-۲۴۵) اِس عبارت میں الزامی جوابات کا جواز جس رنگ اور جس طریق سے مذکور ہے اسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت عیسی کے متعلق اختیار فرمایا ہے۔جناب مولانا کے نزدیک بھی حضرت عیسی کی دو صورتیں ہیں۔(۱) ایک حقیقی صورت جو اسلامی عقائد میں نبی اور رسول کی ہے۔(۲) دوسری خیالی تصویر جو عیسائی خیالات میں خدا کا بیٹا ہونے کی ہے۔بلاشبہ یہ سچ ہے کہ یسوع کوئی علیحدہ وجود نہ تھا لیکن در حقیقت مندرجہ بالا تشریح کی موجودگی میں ہم نصاری کے پیش کردہ یسوع کو حضرت (512)