تفہیماتِ ربانیّہ — Page 507
(۱۰) موسی کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اورمحمد سی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہمنام ہوں۔اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح بن مریم کی عزت نہیں کرتا۔“ (کشتی نوح صفحه ۲۵ تقطیع خورد) ان دسن حوالجات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو کس قدر پاک مطہر اور راستباز نبی مانتے ہیں۔خود حضرت کا ان کے مثیل ہونے کا دعویدار ہونا بھی بتاتا ہے کہ حضور نے ان کو کوئی گالی نہیں دی اور نہ دے سکتے تھے۔حضرت مسیح موعود کے الزامی جوابات معترض پٹیالوی نے انجام آتھم وغیرہ کتب سے بعض الزامی جوابات نقل کر کے اعتراض کیا ہے کہ دیکھو مرزا صاحب حضرت عیسی کو گالیاں دے رہے ہیں۔حالانکہ اسی موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے :- یادر ہے کہ یہ ہماری رائے اس یسوع کی نسبت ہے جس نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو چور اور بٹمار کہا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بجز اس کے کچھ نہیں کہا کہ میرے بعد جھوٹے نبی آئیں گے۔ایسے یسوع کا قرآن میں کہیں ذکر نہیں۔“ ( انجام آتھم صفحہ ۱۳) ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں :- " اس بات کو ناظرین یاد رکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے۔اور آنحضرت کے بارہ میں پیشگوئی کی تھی۔بلکہ ایک (507)