تفہیماتِ ربانیّہ — Page 495
ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔“ ( کشتی نوح صفحہ ۱۳) (ج) وَنَعْتَقِدُ أَنَّ كُلَّ آيَةِ الْقُرْآنِ بَحْرُ مَوَّاجٌ مَمْلُوهُ مِنْ دَقَائِقِ الْهُدى وَبَاطِل مَا يُعَارِضُهُ وَيُخَالِفُ بَيَانَهُ مِنْ قِصَص وَعُلُومِ الدُّنْيَا وَالْعُقْبِی۔“ ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۸۷) ترجمہ - ہم اعتقادر کھتے ہیں کہ قرآن مجید کی ہر آیت ہدایت کی باریکیوں سے پر موجیں مارتا ہو ا سمندر ہے۔دنیا کے قصص یا علوم جو اس عالم یا آخرت کے متعلق وو علوم 66 ہیں اور قرآن پاک کے معارض اور مخالف ہیں وہ سب باطل اور غلط ہیں۔“ (3) جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہلِ زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ وہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہو ملزم و ساکت ولا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود معارف و حقائق و حکمیه قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اُس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر ایک خوانده ناخواندہ کو معلوم ہو جائے۔کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف ودقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِذَلِكَ الْإِعْجَا زِ فَوَاللَّهِ مَا قَدَرَ الْقُرْآنَ حَقَّ قَدْرِهِ وَمَا عَرَفَ اللَّهَ حَقٌّ مَعْرِفَتِهِ وَمَا وَقَرَ الرَّسُولَ حَقَّ تَوْقِيرِہ۔اے بندگانِ خدا! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن 495