تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 496 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 496

شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر ایک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۱۲۸-۱۳۱ طبع پنجم ) (3) بہر حال احادیث کی قدر کرو اور ان سے فائدہ اُٹھاؤ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں۔اور جب تک قرآن اور سنت اُن کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو بلکہ چاہئے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کاربند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ کوئی سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل ، مگر اس کی تائید میں تمہارے پاسس کوئی حدیث ہو۔لیکن اگر کوئی ایسی حدیث ہو جو قرآن شریف کے بیان کردہ قصص سے صریح مخالف ہے تو اس کی تطبیق کے لئے فکر کرو شاید وہ تعارض تمہاری ہی غلطی ہو۔اور اگر کسی طرح وہ تعارض دُور نہ ہو تو ایسی حدیث کو پھینک دو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے۔اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے مگر قرآن سے مطابقت رکھتی ہے تو اس حدیث کو قبول کرلو کیونکہ قرآن اس کا مصدق ہے۔(کشتی نوح صفحہ ۵۸) یہ پانچ اقتباسات صاف طور پر بتا رہے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قرآن مجید پر کیسا ایمان رکھتے تھے اور کس طرح اس کے بحر بے پایاں ہونے کے مدعی تھے اور دنیا کی نجات اور تمام صداقتوں کے قیام کا انحصار اس سے مختص بتاتے تھے۔نیز حدیث رسول اللہ کا آپ کے نزدیک کیا مرتبہ تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول قرآن پاک ا چنانچہ حضرت نے اپنے الہام کی رُو سے بھی اسی بناء پر بعض جعلی احادیث کو غلط ٹھہرایا ہے جن کے متعلق معترض نے بھی اعتراض کیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ وہ حدیث نبوی ہی نہیں۔(ابوالعطاء) (496)