تفہیماتِ ربانیّہ — Page 492
ہیں کہ نگر اس فلسفی الطبع زمانہ میں جو عقلی سٹ ئستگی اور ذہن کی تیزی اپنے ساتھ رکھتا ہے دینی کامیابی کی امید رکھنا ایک بڑی بھاری غلطی ہے۔ازالہ صفحہ ۳۷۸‘ (عشرہ صفحہ ۱۰۸) ناظرین کرام ! ان جلی قلم الفاظ کو پیش کر کے معترض پٹیالوی نے مخلوق خدا کو خطرناک دھوکا دینا چاہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت کا اقتباس پیش کرنے میں اس نے تحریف کے لحاظ سے یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے ہیں۔حضرت مسیح موعود اور دینی کامیابی سے انکار؟ یہ بات سراسر ناممکن ہے۔حضور ہی نے تو اس یاس انگیز زمانہ میں قوت بالا سے بھر پور ہوکر فرمایا ہے اک بڑی مدت سے دیں کو کفر تھا کھاتا رہا یقیں سمجھو کہ آئے کفر کو کھانے کے دن پھر طریق کامیابی کے متعلق فرمایا :- ازرہ دیں پروری آمد عروج اندر نخست باز می آید اگر آید ازین ره بالیقیں در ثمین اردو) در ثمین فارسی ) پس یہ کیسے ممکن تھا کہ حضور جو دینی کامیابی کا جسم یقین تھے اس کامیابی کی امید کو بھی بھاری غلطی قرار دیں؟ در حقیقت بات یہ ہے کہ پٹیالوی صاحب نے ازالہ اوہام کی منقولہ عبارت میں تین خیانتوں سے کام لیا ہے۔اوّل صفحہ کا حوالہ غلط دیا ہے۔یعنی بجائے ۲۶۸ کے ۳۷۸ لکھا ہے۔دوم عبارت میں سے الفاظ ایسے عقیدوں کے ساتھ عمد أحذف کر دیئے ہیں۔سوم سیاق عبارت کے خلاف مفہوم کا استدلال کیا ہے۔میں مزاج ناظرین کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل الفاظ درج کرتا ہوں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- یہ عقیدہ کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان پر چلا گیا تھا قرآن شریف اور احادیث (492)