تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 483 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 483

ملائک اس معنے سے ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ ملاک اجرام سماویہ اور ملاک اجسام الارض ہیں۔یعنی ان کے قیام اور بقاء کے لئے روح کی طرح ہیں۔اور نیز اس معنے سے بھی ملائک کہلاتے ہیں کہ وہ رسولوں کا کام دیتے ہیں۔“ ( توضیح مرام حاشیه صفحه ۳۳) ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملائک کے اقراری ہیں اور اُن کی ہستی کو اُسی طرح پر مانتے ہیں جس طرح قرآن پاک میں مذکور ہے۔ان کے روح کو اکب ہونے کے صرف یہ معنے ہیں کہ وہ باذنہ تعالیٰ ان پر مدبر ہیں۔نیز آیات قرآنی کی روشنی میں حضرت اقدس کا مذہب یہ ہے کہ فرشتوں کا زمین پر اپنے شخصی اور اصلی وجود کے ساتھ نزول نہیں ہوتا بلکہ تمثلی طور پر ہوتا ہے۔کیا یہ فرشتوں کے وجود سے انکار ہے جیسا کہ معترض نے عنوان قائم کیا ہے۔اِس قدر صاف عبارت کی موجودگی میں اتنی غلط بیانی شاید منشی محمد یعقوب کو ہی زیب دیتی ہے۔حضرت مسیح موعود کے اس باب میں بعض دیگر حوالجات حسب ذیل ہیں۔فرمایا :- (1) فرشتوں پر ایمان لانے کا یہ راز ہے کہ بغیر اس کے توحید قائم نہیں رہ سکتی اور ہر ایک چیز کو اور ہر ایک تا ثیر کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے باہر ماننا پڑتا ہے۔اور فرشتہ کا مفہوم تو یہی ہے کہ فرشتے وہ چیزیں ہیں جو خدا کے حکم سے کام کر رہی ہیں۔پس جبکہ یہ قانون ضروری اور مسلم ہے تو پھر جبرائیل اور میکائیل سے کیوں انکار کیا جائے؟“ (چشمہ معرفت صفحہ ۱۷۳ حاشیہ) (٢) " وَاَعْتَقِدُ اَنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً مُقَرَّبِيْنَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ مَقَامٌ مَعْلُومٌ لَا يَنْزِلُ أَحَدٌ مِنْ مَقَامِهِ 483