تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 484 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 484

وَلَا يَرْقَى وَنُزُولُهُمُ الَّذِي قَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ لَيْسَ كَنُزُولِ الْإِنْسَانِ مِنَ الْأَعْلَى إِلَى الْأَسْفَلِ وَلَا صُعُودُهُمْ كَصُعُودِ النَّاسِ مِنَ الْأَسْفَلِ إِلَى الْأَعْلَى لِاَنَّ فِى نُزُولِ الْإِنْسَانِ تَحَوُّلًا مِنَ الْمَكَانِ وَرَائِحَةَ مِنْ شِقِّ الْاَنْفُسِ وَاللُّغُوبِ وَلَا يَمَسُّهُمْ لَغَبُ وَلَا شِقٌ وَلَا يَتَطَرَّقُ إِلَيْهِمْ تَغَيُّرُ فَلَا تَقِيْسُوا نُزُولَهُمْ وَصُعُودَهُمْ بِأَشْيَاءٍ أُخْرَى بَلْ نُزُولُهُمْ وَصُعُودُهُمْ بِصِبْغ نُزُولِ اللَّهِ وَصُعُودِهِ مِنَ الْعَرْشِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا “ ترجمہ میں اعتقاد رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا مقام معلوم ہے جس سے ترقی و تنزیل نہیں کر سکتے۔قرآن مجید میں ان کے جس نزول کا ذکر ہے وہ انسان کے نزول و صعود کی طرح نہیں کہ اُوپر سے نیچے یا نیچے سے اوپر کی طرف ہو۔کیونکہ انسان کے نزول میں انتقال مکانی نیز تکان وغیرہ ہوتی ہے لیکن فرشتوں کو تعب و مشقت نہیں نیز اُن پر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔پس تم ان کے نزول اور صعود کو دوسری چیزوں پر قیاس مت کرو۔ہاں ان کا نزول اور صعود اسی رنگ پر ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی عرش سے سماء الدنیا پر نزول فرماتا ہے۔(آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۸۴) (۳) حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- اصل بات یہ ہے کہ یہ عاجز ملائک اور جبریل کے 1 حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ رات کے آخری حصہ میں دنیا کے قریب والے آسمان پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے کہ کون استغفار کرتا ہے کہ میں اس کو بخشوں۔( ابوالعطاء) (484