تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 467 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 467

اس طویل اقتباس میں حضرت مسیح موعود نے اپنا مذہب درباره حرمت تصویر اس کے دلائل از روئے قرآن وحدیث و واقعات، نیز اپنے فوٹو کی غرض اور جماعت احمدیہ کے لئے اس باب میں ضروری ہدایات درج فرما دی ہیں۔کوئی شخص اس کو پڑھنے کے بعد انصافا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو پر اعتراض نہیں کر سکتا وهوا المراد - معترض پٹیالوی نے فقرہ اوّل میں جس قدر باتیں درج کی تھیں ان کا جواب ہم لکھ چکے ہیں۔معترض کا منشاء ان اعتراضات سے یہ تھا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت مسیح موعود کے عقائد مشرکانہ تھے اسلئے تفصیلی جواب کے آخر میں ہم حضرت اقدس کی ایک عبارت بھی پیش کر دیتے ہیں۔حضور نے تحریر فرمایا ہے :- ”اے سننے والوسنو ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُس کے ہو جاؤ۔اُس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو۔نہ آسمان میں نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ پہلے بولتا تھا اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ وہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے اُس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں۔کوئی صفت بھی معطل نہیں اور نہ کبھی ہوگی۔وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں۔اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں۔جس کا کوئی ہم صفات نہیں اور جس کی کوئی طاقت کم نہیں۔وہ قریب ہے باوجود دُور ہونے کے ، اور دُور ہے باوجود نزدیک ہونے کے۔وہ تمثل کے طور پر اہلِ کشف پر اپنے تئیں ظاہر کر سکتا ہے مگر اس کے لئے نہ کوئی جسم ہے اور نہ کوئی شکل ہے۔“ (رسالہ الوصیت صفحہ ۹) نیز فرمایا - (467)