تفہیماتِ ربانیّہ — Page 461
(۲) اس کے ہاتھ بھی ہیں۔قرآن مجید کہتا ہے يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ (مائدہ رکوع 9) يَدُ اللَّهِ فَوقَ أَيْدِيهِمْ (الفتح رکوع ۱ ) و الموتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ (زمر رکوع ۷ ) وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ (ذاریات رکوع ۳) یعنے اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں۔خدا کا ہاتھ مومنوں کے ہاتھوں پر ہے۔سب آسمان اس دن اس کے داہنے ہاتھ میں لیٹے ہوئے ہونگے۔ہم نے زمینوں کو ہاتھوں سے بنایا اور ہم وسیع کر نیوالے ہیں۔(۳) اس کا چہرہ بھی ہے۔فرما یا كُلُّ شَيْءٍ هَالِكُ إِلَّا وَجْهَهُ (القصص رکوع ۹) ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اس کے چہرہ کے۔(۴) اس کے پاؤں بھی ہیں۔حَتَّى يَضَعُ رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ أَوْ رِجْلَهُ یہاں تک کہ جہنم میں خدا تعالیٰ اپنا قدم یا پاؤں رکھے گا۔( بخاری ومسلم۔مشکوۃ صفحہ ۵۰۵) (۵) اس کی پنڈلی بھی ہے يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ ( القلم رکوع ۲) جس دن خدا کی پنڈ ٹی ٹنگی کی جائے گی۔کیا ہم اور غیر احمدی علماء اسلام کے ان مخالفین کو یہی جواب نہیں دیا کرتے کہ یہ حض استعارہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے ہاتھ وغیرہ اس کی شان کے مناسب ہیں۔پھر کیا آج یہ ک اتنا بھی نہیں سمجھ سکتے کہ اگر ہاتھ پیر روحانی ہو سکتے ہیں تو تصویر بھی روحانی ہو سکتی ہے؟ (3) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جبریل کو خدا کا سانس یا اس کی آنکھ کا نور یا اس کے جسم کا سایہ نہیں لکھا۔یہ سراسر جھوٹ ہے۔ہاں حضرت نے اتنا تحریر فرمایا ہے کہ جبریل اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور مشیت کا کامل مطیع ہے اور اپنے ارادہ اور اختیار کے بغیر محض منشاء الہی سے ہی حرکت کرتا ہے اور یہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس صداقت کو تمثیلا یوں ظاہر فرمایا کہ جس طرح انسان کے اعضاء میں کلی توافق ہوتا ہے۔دل میں خیال پیدا ہوتے ہی ہاتھوں میں یہ ترجمہ غیر احمدیوں کے نزدیک ہے۔اصل ترجمہ اس آیت کا یہ ہے۔جس دن سخت گھبراہٹ ہوگی۔یہ عربی کا محاورہ ہے۔(مؤلف) (461)