تفہیماتِ ربانیّہ — Page 458
اقول - (الف) معترض پٹیالوی کے اعتراض کی بنیاد جن دو حوالوں پر ہے ان کے پیش کرنے میں اُس نے یہود یا نہ کتر و بیونت سے کام لیا ہے اس لئے ہم پہلے اصل حوالجات نقل کرتے ہیں۔حقیقۃ الوحی کا مکمل حوالہ حسب ذیل ہے۔حضرت فرماتے ہیں :- " روحانی طور پر انسان کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی کمال نہیں کہ وہ اس قدر صفائی حاصل کرے کہ خدا تعالیٰ کی تصویر اس میں کھینچی جائے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔اِنِّی جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً یعنی میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔یہ ظاہر ہے کہ تصویر ایک چیز کی اصل صورت کی خلیفہ ہوتی ہے یعنی جانشین۔اور یہی وجہ ہے کہ جس جس موقع پر اصل صورت میں اعضاء واقع ہوتے ہیں اور خط و خال ہوتے ہیں۔اسی اسی موقع پر تصویر میں بھی ہوتے ہیں۔اور حدیث شریف نیز تورات میں بھی ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا۔پس صورت سے مراد یہی روحانی تشابہ ہے۔“ (صفحہ ۳۵) توضیح مرام کا حوالہ۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :۔یہ امر ضروری ہے کہ وحی کے القاء یا ملکہ وحی کے عطا کرنے کے لئے بھی کوئی مخلوق خدا تعالیٰ کے الہامی اور روحانی ارادہ کو بمنصہ ظہور لانے کے لئے ایک عضو کی طرح بن کر خدمت بجالا وے جیسا کہ جسمانی ارادوں کے پورا کرنے کے لئے بجالا رہے ہیں۔سو وہ وہی عضو ہے جس کو دوسرے لفظوں میں جبریل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے جو بہ تبعیت حرکت اس وجود اعظم کے سچ مچ ایک عضو کی طرح بلا توقف حرکت میں آجاتا ہے۔یعنی جب خدا تعالیٰ محبت کرنے والے دل کی طرف محبت کے ساتھ رجوع کرتا ہے تو حسب قاعدہ مذکورہ بالا جس کا ابھی بیان ہو چکا ہے جبریل کو بھی جو سانس کی (458)