تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 451 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 451

ہے جیسا کہ اوپر بحوالہ تحفہ قیصریہ ذکر ہو چکا ہے۔ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں :- ” وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی کوئی بیوی نہیں۔اور وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں۔( الوصیت صفحہ ۱۰) لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ بالا عبارت میں کسی چیز کو خدا کی مانند قرار دیا ہے؟ ہرگز نہیں فَبَطَلَ مَا كَانُوا يَأْفِكُونَ۔رویت باری تعالیٰ پر بحث (۴) قوله " قرآن شریف فرماتا ہے لَا يُدرِكُهُ الْأَبْصَارُ۔آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔مگر مرزا صاحب کہتے ہیں ( صاحب الہام لوگوں سے ) خدا قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اُتار دیتا ہے۔الخ (عشره صفحه (۱۰) اقول-اگر آپ آیت پوری پڑھ لیتے تو آپ کو اعتراض کرنے کا موقع نہ ملتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ : وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الخبير (الانعام رکوع ۱۳) آنکھیں ذات باری کا خود اور اک نہیں کر سکتیں، ہاں وہ آنکھوں کو اور اک تک پہنچاتا ہے کیونکہ وہ لطیف و خبیر ہے۔گویا یہ بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کا ادراک انسانی وسعت اور طاقت سے باہر ہے۔ہاں جب خدا خود ادراک کروانا چاہتا ہے تو پھر ممکن ہوتا ہے۔یعنی ہر آنکھ خدا کو نہیں دیکھ سکتی۔لیکن جس آنکھ کو خدا اپنا وجود دکھلانا چاہے وہ دیکھ سکتی ہے اور صاحب الہام لوگوں کو خدا اپنا نوری وجود دکھلاتا ہے تا وہ اس کی ہستی کے عینی گواہ بن سکیں۔پس اول تو آیت کے اگلے حصہ میں ہی اعتراض کا جواب ہے۔دوم آیت قرآنی میں اور اک کی نفی ہے، رؤیت اور دیدار کی نفی نہیں۔ادراک کے کیا معنے ہیں؟ حضرت امام غزالی فرماتے ہیں :- لے آیت میں لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ ہے۔(مؤلف) 451