تفہیماتِ ربانیّہ — Page 444
اس میں کوئی استعجاب نہیں کہ انہوں نے حضور کے عقائد کو الحاد سے منسوب کیا اور آپ کی تعلیم کو اور اخلاق کو مخالف اسلام و سُنتِ خیر الانام قرار دیا۔اول تو اس لئے کہ ضروری تھا کہ حضرت مسیح موعود کو بھی دیگر مصلحین کی طرح مخالفین و معاندین کی طرف سے یہ طعنے سننے پڑتے۔خدا کے قدیم اور ثابت شدہ عام قانون کا یہی اقتضاء تھا۔دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خصوصیت سے پیشگوئی پائی جاتی ہے کہ علماء وقت آپ کے سخت دشمن ہوں گے۔رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ میں علماء کی حالت بایں الفاظ بیان فرمائی ہے عُلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ أدِيمِ السَّمَاءِ (مشكوة كتاب العلم) کہ وہ روئے زمین پر بدترین مخلوق ہوں گے۔ظاہر ہے کہ علماء کی یہ زبوں حالی اُسی وقت سے متعلق ہو سکتی ہے جب امت پر نہایت تاریک بادل اور ظلمت فشاں گھٹائیں چھا رہی ہوں ، اور وہی وقت مسیح اور مہدی کی آمد کا ہے۔گویا اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے مخالف مولویوں کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے اور اسی حدیث نبوی سے استنباط کر کے نیز اپنے کشوف کی بناء پر اولیاء امت نے صراحتاً لکھا ہے کہ جب حضرت امام مہدی ظاہر ہوں گے تو اُس وقت کے مولوی اور علماء اس کے سخت مخالف ہو جا ئینگے۔(۱) حضرت مجد دالف ثانی مہدی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں :- نزدیک است که علمائے ظواہر مجتہدات اور اعلی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام از کمال وقت و غموض ماخذ انکار نمایند و مخالف کتاب و سنت دانند ( مکتوبات امام ربانی جلد ۲ صفحه ۵۵) (۲) اقتراب الساعۃ میں لکھا ہے :- " یہی حال مہدی علیہ السلام کا ہوگا کہ اگر وہ آگئے سارے مقلد بھائی ان کے جانی دشمن بن جائیں گے۔ان کے قتل کی فکر میں ہوں گے۔کہیں گے یہ شخص تو ہمارے دین کو بگاڑتا ہے۔“ ( اقتراب الساعۃ صفحہ ۲۲۴) (۳) حضرت شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں :۔” إِذَا خَرَجَ هَذَا الْإِمَامُ الْمَهْدِى فَلَيْسَ لَهُ عَدُوٌّ مُّبِينٌ إِلَّا الْفُقَهَاءُ خَاصَّةً “ (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۲۴۲) 66 کہ جب امام مہدی پیدا ہوں گے تو علماء وفقہاء ان کے سخت جانی دشمن ہو نگے۔“ (444)