تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 443 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 443

فصل نهم مرزا صاحب کے معتقدات ایمانیہ اور انکی تعلیم اور اخلاق ما مسلمانیم از فضل خدا مصطفه ما را امام و پیشوا اندریس دین آمده از مادریم هم برین از دار دنیا بگزریم ضرت مسیح موعود ) جب دنیا میں تاریکی، لامذہبیت ، الحاد اور بداعتقادی کا زور ہو جاتا ہے اور لوگوں کی زبانوں پر تو ایمان کا لفظ ہوتا ہے مگر دل اس نور سے بے نور ہو جاتے ہیں تب خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے تا وہ اُن کے عقائد و اعمال کی اصلاح کرے۔لیکن یہ ایک حیرت زاد اقعہ ہے کہ اُس زمانہ کے لوگ آنے والے موعود کو اپنے پیمانہ سے ناپنا چاہتے ہیں اور اپنے عقائد کو اُس کی صداقت کی کسوٹی قرار دیتے ہیں۔اور جونہی وہ کوئی آسمانی صداقت پیش کرتا ہے تو یہ اُس کے برخلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔تمام انبیاء سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔قرآن مجید شہادت دیتا ہے کہ ہرنبی کی بعثت پر منکرین نے یہی جواب دیا کہ یہ رسول کیونکر سچا ہوسکتا ہے حالانکہ اس کی تعلیمات، عقائد اور اعمال ہمارے اور ہمارے آباء کے خلاف ہیں۔بلکہ وہ لوگ اپنے علم پر متکبر ہو گئے اور اسی کی بناء پر انہوں نے اس کی تکذیب کی۔فرمایا فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ (المومن رکوع ۹) علماء کے امام مہدی کے مخالف ہونے کی پیشگوئیاں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مصلح دوران ہو کر آئے۔اب اگر یہ لوگ یا ان کے علماء آپ پر یہ اعتراض نہ کرتے تو مقام تعجب تھا لیکن لے ترجمہ۔وہ لوگ ( نبی کے منکر علماء ) اپنے علم پر مغرور ہو گئے * 443)