تفہیماتِ ربانیّہ — Page 440
ہوتے ہوئے پیغام اسلام پہنچانے میں وہ کام کیا جو کروڑوں انسانوں سے نہ ہوسکا، بلکہ بادشاہوں سے بھی۔ادب کا لحاظ قرآن مجید اور حدیث کی رُو سے ضروری تھا۔اور صحابہ کرام کا بھی اُسوہ حسنہ یہی ہے۔چنانچہ جب مسلمان پہلی مرتبہ ہجرت کر کے حبشہ میں گئے تو وہاں کے عیسائی بادشاہ کے متعلق انہوں نے حسب ذیل فقرات کہے تھے :- إِنَّ قَوْمَنَا بَغَوْا عَلَيْنَا وَأَرَادُوا فِتْنَتَنَا عَنْ دِينِنَا فَخَرَجْنَا إِلَى دِيَارِكَ وَاخْتَرْنَاكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ وَرَغِبْنَا فِي جَوَارِكَ وَرَجَوْنَا أَنْ لَا نُظْلَمَ عِنْدَكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ۔یعنی ہم نے آپ کی پناہ لی ہے اور باقی بادشاہوں پر آپ کو ترجیح دی ہے ہمیں امید ہے کہ آپ کے پاس ہم پر ظلم نہ ہوگا اے بادشاہ “ (المحاضرات للخضری جلد ا صفحہ ۱۰۸) لطیفہ - ضرب المثل ہے۔خوئے بدرا بہانا ہائے بسیار۔معترض پٹیالوی کا بھی یہی طریق ہے۔چنانچہ اس ضمن میں اعتراض کیا ہے۔چھ زبانوں میں ایک ہی دعا کے الفاظ کو ادا کرنا کیا فضول اور نمائشی کارروائی نہیں ہے۔کیا مرزا صاحب کو اللہ تعالیٰ کی نسبت کسی زبان سے ناواقف ہونے کا بھی خیال تھا ؟" (حاشیه صفحه ۹۴ عشرہ کاملہ ) اجی صاحب! اللہ تعالیٰ کی ناواقفی کا سوال نہیں بلکہ مختلف زبانیں بولنے والوں کے علم کی خاطر مختلف لوگوں نے مختلف زبانوں میں اس تقریر کا ترجمہ پڑھ کر سنایا۔وہ تقریر خالی دعا نہیں ہے۔بلکہ شکر یہ وغیرہ پر بھی مشتمل مضمون ہے جس میں چند دعائیہ فقرے بھی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ احباب کے جلی عنوان سے اس تقریب کی تفصیل بذریعہ اشتہار شائع فرمائی تھی۔اس میں حضور نے لکھا ہے :- ” اور وہ تقریر جو دعا اور شکر گزاری جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند میں سنائی گئی جس پر ر لوگوں نے بڑی خوشی سے آمین کے نعرے مارے وہ چھ زبانوں میں بیان کی گئی تا ہمارے پنجاب کے ملک میں جس قدر مسلمان کسی زبان میں دسترس رکھتے ہیں ان تمام زبانوں میں شکر ادا ہو۔ان میں سے ایک اُردو میں تقریر تھی جو شکر اور دعا پر مشتمل تھی جو عام لے گویا تمہارے نزدیک بھی خدا تعالیٰ سب زبانوں کو جانتا ہے اور یہی بیچ بھی ہے مگر پھر بھی اس کی کیا وجہ ہے کہ اگر خدا تعالی انگریزی فارسی یا اُردو میں الہام کر دیتا ہے تو تم شور مچادیتے ہو؟ (ابوالعطاء) (440)