تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 434 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 434

ران سب واقعات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس واقعیت کو سمجھنے کے لئے یوں خیال فرمائیں کہ نبی کی دُعا ایک بارش کی طرح ہے۔اب اگر زمین میں استعداد ہی نہ ہو تو وہ بنجر ہی رہے گی۔ہاں اگر اس میں نشو نما کی قوتیں ہوں تو اس بارش سے روئیدگی اُگ آئے گی اور ہر حصہ زمین اپنی مخفی استعدادوں کو ظاہر کرے گا سے باراں که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روئید و در شوره بوم خس سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ان اصحاب کے لئے ” ثابت قدمی“ کی دُعا فرمائی۔دعا اپنی ذات میں قبول ہوگئی مگر اس سے وہی لوگ حصہ پاسکتے ہیں جن میں مادہ قبولیت تھا۔سورج کا طلوع روشنی اور چمک کو نمودار کرتا ہے۔اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔لیکن آفتاب کی اس تابانی وضوء فشانی سے وہی لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو چشم بینا ر کھتے ہیں۔اور پھر ان میں سے بھی اگر کوئی بدقسمتی اور اپنی غلطی سے آنکھیں کھو بیٹھے تو پھر بھی وہ نور سے محروم ہو جائے گا۔یہی حال حضرت کی اس دعا کا ہے۔اس کے نفس تاثیر میں کوئی کلام نہیں مگر اس سے وہی حصہ پانے والے ہوئے جن کو نورانی آنکھیں اور بصیرت والی فطرت نصیب ہوئی۔ان میں سے جو بعد میں اپنے دل کے کواڑ بند کر بیٹھے وہ بھی نور کی بجائے تاریکی میں گھر گئے اور فی ظُلُمتٍ لَّا يُبْصِرُونَ کا مصداق بن گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے :- وو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشادہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام) جس قدر تو عقدِ ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی روح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کرتا ہے تیری دعاؤں کے پڑ تا ثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو ورنہ دعا قبول نہیں ہوگی۔“ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۶۶) الغرض اس نمبر میں بھی معترض پٹیالوی نے جو اعتراض کیا تھا وہ ہر طرح سے باطل ہے۔قرآن مجید کی آیات ،سنن الہیہ اور احادیث نبوی اس کے خلاف ہیں۔اور عقلِ انسانی بھی (434)