تفہیماتِ ربانیّہ — Page 423
سما مھا۔یعنی موتوں کے تیر خطا نہیں جاتے۔جب اس پر بھی دعا کی گئی تب الہام ہوا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَوةَ الدُّنْیا۔یعنے اے لوگو! تم اس خدا کی پرستش کرو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے یعنی اُسی کو اپنے کاموں کا کارساز سمجھو اور اسی پر توکل رکھو۔کیا تم دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ کسی کے وجود کو ایسا ضروری سمجھنا کہ اس کے مرنے سے نہایت درجہ کا حرج ہوگا ایک شرک ہے۔اور اس کی زندگی پر نہایت درجہ زور لگادینا ایک قسم کی پرستش ہے۔اس کے بعد میں خاموش ہو گیا اور سمجھ لیا کہ اس کی موت قطعی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۲۷) کیا کوئی عقلمند اس بات کو حقیقتا دعا کا رو کرنا کہہ سکتا ہے اور پھر اس سے حضرت اقدس کے کاذب ہونے کا استدلال کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔حضرت نے دعا کی اور بہت دعا کی۔اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ یہ قضاء بہر صورت اٹل ہے۔دعا کے جواب میں الہام ہو گیا جس نے اپنی صداقت پر واقعات سے مہر کر دی۔پس اس صورت میں اس دعا کو حضرت کے خلاف پیش کرنا نادانی ہے۔اگر غور کیا جائے تو یہ حضور کی صداقت کا زبردست ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الہاما بتادیا کہ یہ قضاء مبرم ہے اور حضور نے اس وقت دُعا کرنی چھوڑ دی۔الجواب صحیح ترمذی کی حدیث او پر درج ہو چکی ہے۔دعا کی قبولیت کی صورتیں ہوا کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا عبد الکریم کی صحت کے لئے جو بکثرت دعائیں کیں اگر چہ ان پر حضور کو الہاما جواب مل گیا اور بالآخر آپ نے سلسلہ دعا کو بند بھی کر دیا لیکن تاہم حضور کی وہ شبانہ روز دعائیں رائگاں نہیں گئیں۔حضور تحریر فرماتے ہیں :- مختلف وو وہ درد جو اُن (حضرت مولوی عبد الکریم ) کے لئے دعا کرنے میں میرے دل پر وارد ہوا تھا خدا نے اس کو فراموش نہ کیا اور چاہا کہ اس ناکامی کا ایک اور کامیابی کے ساتھ تدارک کرے اسلئے اس نشان کے لئے سیٹھ عبد الرحمن کو منتخب کر لیا۔اگر چہ خدا نے عبد الکریم کو ہم سے لے لیا تو عبد الرحمن کو دوبارہ (423)