تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 36 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 36

کہ ان لوگوں کے خیال میں بھی جو اُس کے نسب کو درست جانتے ہیں عبید اللہ نے اپنا نام مہدی چُھپ کر رکھا تھا۔“ پھر علامہ ابن خلکان اسی جگہ ایک اور روایت لائے ہیں جس میں مذکور ہے کہ عبید اللہ مہدی کو دوسرے یا تیسرے سال میں سلماسہ کے حاکم ایسیع نے قید خانہ میں قتل کر دیا تھا اور پھر مجھوٹ موٹ ایک شیعہ نے دوسرے آدمی کو عبید اللہ قرار دے دیا۔اور پھر عیون التواریخ کے حوالہ سے ” وجیہ فارسی نے اپنی کتاب ” الدعاة “ میں لکھا ہے کہ عبید اللہ مہدی کے دعوے میں عجیب اختلاط تھا۔چنانچہ اُس کے واعظوں کا یہ طریق تھا کہ : يَقُولُونَ لِلْبَعْضِ هُوَ الْمَهْدِيُّ بْنُ الرَّسُوْلِ وَحُجَّةُ اللَّهِ وَيَقُولُونَ لِلاَ خَرِينَ هُوَ اللهُ الْخَالِقِ الرَّزَّاقُ۔“ (الدعاۃ صفحہ ۱۰۸) بعض لوگوں کو بتاتے کہ وہ مہدی اور حجتہ اللہ ہے اور دوسروں سے کہتے کہ وہ تو اللہ خالق رازق ہے۔“ ان حالات میں نہ معلوم عبید اللہ کے ذکر سے منشی صاحب کی کیا غرض ہے ؟ کیا نصوص قرآنیہ کو ( نعوذ باللہ ) غلط قرار دینے کے لئے ان کے نزدیک ایسی کمزور ، بے ثبوت، اور مشتبہ روایات سے ہی سند لی جاتی ہے۔فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ - مغیرہ بن سعید محلی اس مدعی کے متعلق منشی صاحب نے لکھا ہے :- اس کو اسم اعظم جانے کا دعویٰ تھا اور مردوں کو زندہ کرنے کا بھی مدعی تھا۔کئی قسم کے شعبدات و طلسمات دکھا کر لوگوں کو معتقد بنا لیا تھا الخ " اس کے سارے ذکر میں خود معترض پٹیالوی نے بھی دعوی نہیں کیا کہ اس نے خدا تعالیٰ سے وجی پانے کا دعوی کیا تھا۔تا اس کے وجود سے لو تقول علینا پر کوئی زد پڑ سکے لہذا اس جگہ اُس کے متعلق صرف اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ ہماری بحث مدعی وحی نبوت کے بارہ میں ہے اور یہ شخص مدعی وحی نہ تھا۔زیادہ سے زیادہ ایک شعبدہ باز تھا۔بنان بن سمعان اس کے متعلق منشی صاحب لکھتے ہیں :- 36