تفہیماتِ ربانیّہ — Page 386
اثبات کے بعد ہم مختصراً اس امر پر بھی بحث کریں گے کہ کیا حضرت اقدس نے اس واقعہ سے یہ ثابت کیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو بھی جھوٹے الہام ہو جاتے ہیں ؟“ امراول کا ثبوت معترض پٹیالوی نے حسب عادت بطور یاوہ گوئی لکھ دیا ہے کہ (نعوذ باللہ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام عادہ جھوٹ لکھنے کے لئے حوالہ کا ذکر نہیں کیا کرتے تا کہ اصل عبارت دیکھ کر فوراً ان کا جھوٹ نہ ظاہر ہو جائے۔اور پھر یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ نہ صرف ضرورۃ الامام میں بلکہ اور کئی جگہ تقریر دلپذیر صفحہ ے وغیرہ میں بھی اسی طرح لکھا ہے، یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ”مرزا صاحب نے محض بائیبل میں لکھا ہے، تحریر کر دیا مگر کوئی حوالہ نہیں دیا۔“ گو یا منکر پٹیالوی نے تمام کتب کو جن میں حضرت نے اسی طرح لکھا ہے“ چھان مارا ہے لیکن کسی جگہ بقول اس کے حضرت نے اس بیان کا حوالہ نہیں دیا۔ناظرین کرام ! آپ اس پٹیالوی اکذب کی فریب کاری اور تحدی کو دیکھئے اور اس ژاژ خائی اور شرارت پر نگاہ ڈالئے۔جو وہ ناواقفوں کی گمراہی کے لئے اختیار کر رہا ہے اور ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور کتاب ازالہ اوہام کی حسب ذیل سطور پڑھئے۔لکھا ہے :- مجموعہ تورات میں سے سلاطین اول باب بائیس آیت انیس میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کے وقت میں چار سو نبی نے اس کی فتح کے بارے میں پیشگوئی کی اور وہ جھوٹے ہوئے اور بادشاہ کو شکست آئی۔الہ“ (صفحہ ۳۵۷ طبع سوم ) اور پھر قرآنی آیت لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کی تلاوت کیجئے۔بھائیو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت واضح طور پر سلاطین ا باب ۲۲ کا حوالہ دیا ہے۔اس سارے باب میں یہ قصہ مذکور ہے مگر ا کذب پٹیالوی کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے اس کا کہیں حوالہ نہیں دیا اور وہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔ہم نے حضرت کی کتاب سے امر اول کا اثبات کر دیا۔اس کے ساتھ ہی (386)