تفہیماتِ ربانیّہ — Page 376
کو مقام ہجرت دیکھ کر یمامہ یا ہجر قرار دیا تھا مگر پھر مدینہ ثابت ہوا ( بخاری ) اس سے نہ الہام پر حرف آتا ہے نہ پیشگوئی پر اعتراض پڑتا ہے۔سچ سچ جو ایسی صورت میں پیشگوئی پر اعتراض کرتا ہے وہ شریر النفس ہے۔معترض کے دو اعتراض معترض لکھتا ہے کہ :۔(۱) یہ آپ کا خواب ہے کوئی الہامی پیشگوئی نہیں نہ اس میں کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے۔یہ خواب آپ نے صحابہ کرام سے بیان فرمایا اور انبیاء علیہم السلام کے خواب سچے ہی ہوتے ہیں اسلئے بعض اصحاب کو یقین ہوا کہ ہم اسی سال حج کریں گے۔“ (عشره صفحه ۸۴) (۲) جس روایت میں مدینہ شریف میں اس خواب کا دیکھا جانا بیان کیا گیا ہے وہ ضعیف ہے اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر اس خواب کی وجہ سے اختیار فرمایا کسی روایت سے ثابت نہیں ہوتا کہ خواب کا دیکھنا موجب سفر ہوا ہو۔صحیح روایت تو یہی ہے کہ حدیبیہ پہنچ کر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ خواب دیکھا۔“ (عشرہ صفحہ ۸۴-۸۵) کیا ر و یا الہامی پیشگوئی ہے؟ پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ تو درست ہے کہ یہ آپ کا خواب ہے مگر یہ میچ نہیں کہ یہ الہامی پیشگوئی نہیں۔معترض نے یہ انکار نادانی سے کیا ہے۔حضرت یوسف نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کے سجدہ کی رؤیا دیکھی اور وہ الہامی پیشگوئی تھی۔رویا کو مکالمہ الہی کی قسم ”من وراء حجاب“ میں شامل کیا گیا ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ اگر نبیوں کے خواب الہامی پیشگوئی نہیں ہوتے تو پھر فقرہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بچے ہی ہوتے ہیں“ کا کیا مطلب ہے؟ لیجئے صاحب اختصار کلام کی خاطر ہم بخاری شریف کا حوالہ بتائے دیتے ہیں جہاں لکھا ہے رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْى نبیوں کا خواب بھی وحی ہوتا ہے۔( جلد اول صفحہ ۲۷) (376)