تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 33 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 33

(۴) اس نے لوگوں کو قیام عدل کے لئے مہدی موعود کے ظہور کا وعدہ نبوی بتا یا۔(۵) اُن لوگوں نے اس کو مہدی قرار دیکر اس کی بیعت کر لی۔قارئین کرام ! آپ غور فرماویں کہ ایک شخص محض چند لوگوں کے کہنے سے ان کی بیعت لے لیتا ہے اور ان کو حکومت کے خلاف برسر پیکار کر دیتا ہے۔نہ اس نے خود دعوی کیا اور نہ اُسے وحی والہام پانے کا ادعاء ہے کیا اس سے لو تقول علینا کا معیار باطل ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔بعے اس خیال است و محال است و جنوں۔عبد المومن تیسرے نمبر پر معترض پٹیالوی نے عبدالمومن کا ذکر کیا ہے۔جو ابن تومرت کا ساتھی اور پھر اس کا جانشین بنا تھا۔اور لکھا ہے :- ۳۳ سال تک مہندی کا خلیفہ اور امیر المومنین کہلا کر اور بڑی شان و شوکت سے بادشاہت کر کے ۵۵۸ ھ میں مر گیا۔“ الجواب - ابن تومرت کو عبد المومن نے مہدی قرار دیا اور عبدالمومن کو ابن تومرت اپنا جانشین بنا گیا۔گویا ع من ترا حاجی بگویم تو مرا ملا بگو والا معاملہ ہے۔اس کو آیت ولو تقول علینا کے مقابلہ پر پیش کرنا قرآن مجید کے ساتھ تمسخر کرنا ہے۔محض خلیفہ یا جانشین کہلانا اس وقت زیر بحث نہیں جب تک کہ دعوی الہام و وحی مع جملہ شرائط آیت مذکورہ پیش نہ کرو۔لہذا عبد المومن کا ذکر بھی اس ذیل میں بے تعلق ہے۔طریف وصالح بن طریف چوتھے نمبر پر معترض پٹیالوی نے ان دونوں باپ بیٹوں کا ذکر کیا ہے۔لیکن طریف کے متعلق محض فقرہ نبوت کا دعویٰ کر کے نیا مذہب اپنی قوم میں رائج کیا لیکھا ہے۔(عشرہ صفحہ ۲۲) اس کی مدت مہلت کو عمد أذکر نہیں کیا۔کیونکہ جیسا کہ تاریخ ابن خلدون میں لکھا ہے۔وہ بہت ہی جلد ہلاک ہو گیا۔ہاں صالح بن طریف کے متعلق تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ اس نے دعوی کنبوت کیا اور اپنے آپ کو مہدی اکبر قرار دیا۔وغیرہ وغیرہ۔الجواب۔یادر ہے کہ اس مدعی کا ذکر ابن خلدون جلد 4 صفحہ ۲۰۷ سے شروع ہوتا ہے۔اس جگہ لکھا ہے :- إِنَّهُ إِنَّمَا انْتَحَلَ ذَالِكَ عِنَاداً وَمُحَاكَاةً لَمَّا بَلَغَهُ شَأْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔ثُمَّ زَعَمَ أَنَّهُ الْمَهْدِيُّ الْأَكْبَرُ الَّذِي 33