تفہیماتِ ربانیّہ — Page 31
کو امام باقر کی خلافت کے دعوی کے باعث ہمنوا بنالیا۔دوم - یہ شخص مارا گیا۔صلیب دیا گیا اور وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔کیا اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر پیش کرنا کھلی مغالطہ دہی نہیں؟ محمد بن تو مرت دوسرے نمبر پر معترض پٹیالوی نے محمد بن تو مرت کا ذکر کیا ہے اور اس کے متعلق لکھا ہے :- پانچویں صدی کے شروع میں محمد بن تومرت ساکن جبل سوس نے دعوی کیا کہ میں سادات حسینی ہوں اور مہدی موعود ہوں۔اس کے حالات میں مذکور ہے کہ اس نے امام غزالی وغیرہ اکابر علماء سے تحصیل علوم کے بعد ریل و نجوم میں بھی مہارت بہم پہنچائی اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔۔۔لاکھوں آدمی اس کے شاگر دو مرید بن گئے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۹) ناظرین کرام! ہم معترض کے اس دعوی کو اگر بلا کم و کاست بھی مان لیں تب بھی اس سے آیت وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کے تیس سالہ معیار پر کوئی زدنہیں پڑ سکتی۔کیونکہ معترض پٹیالوی کے نزدیک بھی اس کا دعوی وحی و الہام ثابت نہیں۔بلا دعوی وحی مہدی موعود وغیرہ کا ادعا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔پھر اس کو ریل و نجوم میں ماہر مان کر تو بات اور بھی نمایاں ہو جاتی ہے۔جو شخص ایک بات بطور نجوم کہتا ہے خدا تعالیٰ کے نام پر اس کے الفاظ کو پیش نہیں کرتا اس کو تو تَقَوَّل کے بالمقابل پیش کرنا سراسر غلطی ہے۔محمد بن تو مرت اور اس کے خلیفہ عبد المومن کا ذکر تاریخ کامل ابن اثیر جلد ۱۰ صفحه ۲۱۶ و غیره پر مذکور ہے۔ابن تو مرت کو ۵۱۴ جہ میں شاہ مراکش کے حکم سے دارالسلطنت سے نکال دیا گیا۔اس پر وہ جبل سوس میں جاگزیں ہوا اور لوگوں کو دعوت دی کہ حکومت کے خلاف جنگ کریں۔چنانچہ لکھا ہے :- تسامَعَ بِهِ أَهْلُ تِلْكَ النَّوَاحِيَ فَوَفَدُوا عَلَيْهِ وَحَضَرَ أَعْيَانُهُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَجَعَلَ يَعِظُهُمْ وَيُذَكِّرُهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ وَيَذْكُرُ لَهُمْ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ وَمَا غَيَّرَ مِنْهَا وَمَا حَدَثَ مِنَ الظُّلْمِ وَالْفَسَادِ وَإِنَّهُ لے تاریخ کامل میں اس کے امام غزائی سے ملنے کا انکار کیا گیا ہے۔جلد ۱۰ صفحہ ۲۱۶ - المؤلّف 31