تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 353 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 353

اس کے اخفاء حق پر بہت سے انعامی اشتہارات دیئے ، اس کو عدالت میں نالش کرنے کے لئے کہا۔بالآ خر محض حلف اُٹھا لینے پر انحصار فیصلہ رکھا۔لیکن جب وہ ہر رنگ میں ساکت اور لا جواب رہا تو آپ نے خود ہی اعلان فرما دیا :- (الف) خدا تعالٰی وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک اپنے قوی ہاتھ کو نہ دکھلاؤں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلت ظاہر نہ کروں۔ہاں اس نے اپنی اس عادت اور سنت کے موافق جو اس کی پاک کتابوں میں مندرج ہے آتھم صاحب کی نسبت تاخیر ڈال دی کیونکہ مجرموں کے لئے خدا کی کتابوں میں یہ ازلی وعدہ ہے جس کا متخلف روا نہیں کہ خوفناک ہونے کی حالت میں ان کو کسی قدر مہلت دی جاتی ہے اور پھر اصرار کے بعد پکڑے جاتے ہیں۔اب اگر آتھم صاحب قسم کھالیوں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے۔جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اختفاء کر کے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔لیکن ہم اس مؤخر الذکرشق کی نسبت ابھی صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اپنے نشان کو ایک عجیب طور پر دکھلانے کا ارادہ کیا ہے جس سے دنیا کی آنکھ کھلے اور تاریکی دُور ہو۔اور وہ دن نزدیک ہیں دُور نہیں۔مگر اس وقت اور گھڑی کا علم جب دیا جائے گا تب اس کو شائع کر دیا جائے گا۔“ اشتہار انعامی چار ہزار روپی تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۱۷۷) (ب) تاہم یہ کنارہ کشی آتھم کی بے سود ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سز انہیں چھوڑتا۔نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔اگر چہ آتھم نے نالش اور قسم سے پہلو تہی کر کے اپنے اس طریق سے صاف بتلایا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا۔اور تین حملوں کے طرز وقوع سے بھی جن کا وہ مدعی تھا کھلے طور پر بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے مگر پھر بھی آتھم اس جرم (353)