تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 329 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 329

(۱۰) بخاری شریف میں حدیث ہے۔سردار دو جہاں فخر المرسلین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :۔رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِي أُهَاجِرُ مِنْ مَكَةَ إِلَى أَرْضِ بِمَا نَخْلُ فَذَهَبَ وَهُلِي إلى أَنَّهَا الْيَسَامَةَ أَوِ هَجْرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يثرب ( بخاری کتاب الرو یا جلد ۴ صفحه ۱۵۵) ترجمہ۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں میرا خیال اس طرف گیا کہ وہ یمامہ یا ہجر مقام ہوگا مگر وہ مدینہ یثرب ثابت ہوا۔“ اس حدیث سے عیاں ہے کہ اگر ایک پیشگوئی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یمامہ کے متعلق سمجھا اور واقعات نے یمامہ کی جگہ مدینہ طیبہ ثابت کیا تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کو افتراء قرار دینا محض ان کو چشم بد باطن لوگوں کا کام ہے جو ہمیشہ سے صداقتوں کے انکار پر ہی کمر بستہ رہے ہیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق بعض احادیث میں يَتَزَوج وَيُولَدُ لَهُ وارد ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود نے اسے ضمیمہ انجام آتھم میں محمدی بیگم کے نکاح پر بھی چسپاں فرمایا ہے۔معترض اس کو افتراء علی الرسول قرار دیتا ہے جو حض ایک مغالطہ دہی ہے۔کیا یہ حدیث موجود نہیں ؟ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ ارشاد نہیں فرمائے ؟ اگر یہ حدیث موجود ہے اور بقول مصنف عشرہ تقویت ایمان کا ذریعہ ہے تو اس کو افتراء علی الرسول قرار دینا کس طرح جائز ہوسکتا ہے؟ حضرت مسیح موعود کی عبارت کا جو اقتباس معترض نے اسی نمبر میں درج کیا ہے اس کے دو جواب ہیں۔اوّل يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَہ میں جس شادی اور اولاد کا ذکر ہے اس سے اوائل میں حضرت اقدس نے محمدی بیگم کے رشتہ کو لیا تھا لیکن بعد میں حضور نے تحریر فرمایا :- (1) ” مجھے بشارت دی گئی تھی کہ تمہاری شادی خاندان سادات میں ہوگی اور اس میں سے اولاد ہوگی تا پیشگوئی حدیث يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ پوری ہو جائے۔یہ حدیث اشارت کر رہی ہے کہ مسیح موعود کو خاندانِ سیادت سے تعلق دامادی ہوگا کیونکہ مسیح موعود کا تعلق جس سے وعدہ یولد لۂ کے موافق صالح اور طیب اولاد پیدا ہو، اعلیٰ اور طیب خاندان سے چاہئے اور وہ خاندان سادات ہے۔اور فقرہ خدیجتی سے مراد اولا دخدیجہ یعنی بنی فاطمہ ہے۔( اربعین نمبر ۲ صفحہ ۳۱ حاشیہ) (329)