تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 324 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 324

پورے نہیں ہوئے ان کو افتراء قرار دیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ الہامات شرطی تھے۔معترض نے شرط کو چھوڑ دیا ہے اور مطلق ذکر کر کے مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۰ر جولائی والے اشتہار میں حسب ذیل الہام شائع فرمایا ہے :- اتها المرأَةُ تُوَبِى تُؤْبِى فَإِنَّ الْبَلَاءَ عَلَى عَقِبِهِ ، اس الہام کے ترجمہ میں حضرت اقدس نے تحریر فرمایا کہ :- 66 ”اے عورت تو بہ کر تو بہ کر کیونکہ تیری لڑکی ( زوجہ احمد بیگ ) اور لڑکی کی لڑکی پر ایک بلا آنے والی ہے اور اس پیشگوئی میں احمد بیگ اور اس کے داماد کی خبر دی گئی تھی۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۸۷) گو یا احمد بیگ کی ہلاکت اور اس کے داماد کی موت عدم تو بہ پر موقوف تھی۔اس شرارت اور فتنہ پروری کو جاری رکھنے پر مبنی تھی جو آئے دن وہ اسلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف برپا کیا کرتے تھے۔نکاح جس کے متعلق معترض نے بہت کچھ بے ہودہ سرائی کی ہے احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت کے بعد کا مرحلہ ہے یعنی نکاح کا معاملہ ان دونوں کی موت پر موقوف ہے۔حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے :- خدا تعالیٰ نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ نام ہے اگر وہ اپنی بڑی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا۔اور وہ جو نکاح کرے گا وہ روز نکاح سے اڑھائی برس کے عرصہ میں فوت ہوگا اور آخر وہ عورت اس عاجز کی بیویوں میں داخل ہوگی۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء) گویا نکاح آخری مرحلہ اور ان دونوں کی موت کے بعد مقدر ہے۔مولوی ثناء اللہ امرتسری نے بھی لکھا ہے :- ان میں سے مرزا احمد بیگ اور اس کے داماد کی موت اور اس کی لڑکی سے نکاح والی پیشگوئی مسلمانوں سے خاص تعلق رکھتی ہے۔“ ( نکاح مرز اصفحہ ۳) (324)