تفہیماتِ ربانیّہ — Page 296
کے اندر اس کا مطبوعہ جواب مانگا جو ۹۰ ( نوے) صفحہ کی کتاب نظم و نثر میں ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) کیا مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اس کا جواب لکھا ؟ معترض پٹیالوی معذرت کرتا ہؤا -: لکھتا ہے قصیدہ مذکور مولوی صاحب کے پاس پہنچنے کے بعد مولوی صاحب کا اس کا جواب قلمبند کرنا اور پھر اس کو صاف کرا کر مطبع میں بھیجنا اور مطبع والے کا اس میعاد کے اندر اندر چھاپ کر مصنف کے پاس ارسال کرنا اور پھر مصنف کا اسے بصیغۂ رجسٹری مرزا صاحب کے نام روانہ کرنا اور ڈاک والوں کا اسے مرزا صاحب کے ہاتھ میں پہنچانا یہ سب مرحلے اس ہیں دن ( عملاً پچیس دن ) میں ہی طے ہونے لازمی تھے۔اب جاننے والے جانتے ہیں (خوب جانتے ہیں۔مؤلف ) کہ ان ساری باتوں کا اس تھوڑی سی میعاد میں پورا ہونا کس طرح ممکن تھا۔(عشرہ صفحہ ۶۷) ناظرین ! یہ تو آپ نے منشی محمد یعقوب صاحب کی خام خیالی یا عذر گناہ بدتر از گناہ پڑھا اب ذرا مولوی ثناء اللہ کے اپنے الفاظ بھی پڑھ لیجئے۔لکھا ہے۔کیا ہی معجزہ ہے کہ پریس کے کام کو بھی معجزہ کا جزو بنایا ہے تا کہ اگر کسی صاحب میں ذاتی لیاقت و قابلیت ہو بھی تو بوجہ اس کے کہ اس کے پاس پریس کا انتظام ایسا نہیں جو قادیانی پریس کی طرح صرف مرزا ہی کا کام کرتا ہو تو بس لے واقعی اتنے غیر معمولی اور جان جوکھوں کے مراحل کا طے کرنا ناممکن اور محال تھا۔بھلا امرتسر ایسے گاؤں میں جہاں نہ پر میں ہے نہ کا تب بلکہ لندن سے کتا بیں چھپوانی پڑتی ہیں۔یہ کس طرح ممکن ہوتا اور ادھر اللہ تعالیٰ کی تائید سے بھی بکلی محروم تھے يُؤخَذُ الرَّجُلُ بِاقْرَارِه ! افسوس سے عالماں ایں و ہر کردند شعار خود غارا۔د سے کیا بذریعہ تلوار و نیزہ کفار کے لئے عذاب معجزہ اور نشان نہ تھا پڑھو ئیعد بهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ ( تو به رکوع ۲) کیا ہیں قرآن فہمی ہے؟ سے لفظ اگر اور بھی قابل غور ہیں گو یا خود تسلیم کر لیا کہ ہم میں سے کسی مولوی میں اعجاز احمدی کی مثل بنانے کی قابلیت نہیں اور اگر بالفرض ہوتی بھی تو وہ سامان مہیا نہ آنے پر عاجز رہتا۔سچ ہے سے حق بر زبان جاری۔کیا معجزہ کے سر اور سینگ ہوتے ہیں؟ (ابوالعطاء) ے اخبار اہلحدیث کی باقاعدہ اشاعت پر تو بہت نازاں ہو مگر ( اعجاز احمدی کے ) جواب کے لئے بہانہ ہائے بسیار۔ذرا زیادہ اجرت دینے سے مطبع والے راتوں رات صفحات کے صفحات چھاپ کر دے دیتے ہیں مگر یہاں تو اللہ تعالیٰ کا منشاء ہی یہی تھا۔(ابوالعطاء ) (296)