تفہیماتِ ربانیّہ — Page 283
رحمۃ اللہ۔انا بعد یک نسخہ بذریعہ ڈاک یا کسے آدمی معتبر فرستاده خواهد شد۔آپ کو واضح ہو کہ اس کتاب (سیف چشتیائی) میں تردید متعلق تفسیر فاتحہ ( یعنی اعجاز امسیح) جو فیضی صاحب مرحوم و مغفور کی ہے باجازت ان کے مندرج ہے۔چنانچہ فیما بین تحریر و نیز مشافہہ جہلم میں قرار پاچکا تھا۔بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر میں نے تحریر جواب شمس بازغہ پر مضامین ضرور یہ لاہور میں اُن کے پاس بھیج دیئے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کرادیویں۔افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ لاہور میں مجھے ملے۔آخر الامر مجھے کو ہی یہ کام کرنا پڑا لہذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید مندرجه حسب اجازت سابقہ بتغير ما کی گئی۔آئندہ شاید آپ کو یا مولوی غلام محمد صاحب کو تکلیف اٹھانی ہو گی۔والسلام مولوی کرم الدین کے طویل خط کا اقتباس بنام حضرت مسیح موعود و مکرہ منا حضرت اقدس مرزا صاحب جی مدظلہ العالی۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کل میرے عزیز دوست میاں شہاب الدین طالب علم کے ذریعہ سے مجھے ایک خط رجسٹری شده جناب مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے ملا۔جس میں پیر صاحب گولڑی کی سیف چشتیائی“ کی نسبت ذکر تھا۔میاں شہاب الدین کو خاکسار نے بھی اس امر کی اطلاع دی تھی کہ پیر صاحب کی کتاب میں اکثر حصہ مولوی محمد حسین صاحب مرحوم کے ان نوٹوں کا ہے جو مرحوم نے کتاب اعجاز مسیح اور شمس بازغہ کے حواشی پر اپنے خیالات لکھے تھے وہ دونوں کتابیں پیر صاحب نے مجھ سے منگوائی تھیں اور اب واپس آگئی ہیں۔مقابلہ کرنے سے وہ نوٹ باصلہ درج کتاب پائے گئے۔یہ ایک یہ تو عذیر گناه بدتر از گناه والی بات ہے ورنہ اس اجازت کا کتاب میں ذکر ہونا چاہئے تھے۔(ابوالعطاء ) (283)