تفہیماتِ ربانیّہ — Page 279
" سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو اُس وقت بھی اپنے اشتہار بعنوان ” پیر مہر علی شاہ صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ میں مؤرخہ ۲۸ /اگست ۱۹۰۰ء کو شائع فرمایا کہ : اگر پیر صاحب نے اپنی نیت کو درست کر لیا ہے اور سید ھے طور پر بغیر زیادہ کرنے کسی شرط کے وہ میرے مقابل پر عربی تفسیر لکھنے کے لئے طیار ہو گئے ہیں تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بہر حال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہوگا لاہور میں اپنے نہیں پہنچاؤں گا۔“ مگر پیر صاحب نے نہ اس کے لئے راضی ہونا تھا اور نہ راضی ہوئے۔لاہور میں جماعت احمدیہ کے ممبران نے پے در پے متعدد اشتہار نکالے، پیر صاحب کو رجسٹری شدہ خطوط لکھے ، غیر احمدی معززین کو بھیجا مگر پیر صاحب کو سانپ سونگھ گیا۔آپ نے ہرگز بالمقابل تفسیر نویسی کے لئے ہاں نہ کی اور کیسے کرتے ؟ سامنے ہلاکت اور موت نظر آتی تھی۔انجمن فرقانیہ لاہور نے ماہ نومبر ۱۹۰۰ ء میں تمام اشتہارات اور پیر صاحب کی آمد لاہور کے مفصل حالات ایک رسالہ بنام ” واقعات صحیحہ“ مرتبہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعہ شائع کر دیئے ہیں من شاء التفصيل فلير جع اليه - (۳) قوله : - لاہور میں علماء نے قرار دیا کہ :- اس قسم کے اشتہاروں سے مرزا کو سوائے اپنی شہرت اور علماء کو تنگ کرنے کے اور کچھ مقصود نہیں اسلئے آئندہ کوئی ذی علم ان سے خطاب نہ کرے۔“ (عشرہ صفحہ ۶۷) اقول : - اول تو ہمیں اس روایت میں شائبہ صداقت نظر نہیں آتا۔دوم ہم اس کو واقعات کے خلاف پاتے ہیں۔غیر احمدی لوگوں کے ذی علم ہمیشہ حضرت سے تحریراً مخاطب ہوتے رہے۔کیا مولوی ثناء اللہ امرتسری وغیرہ ذی علم نہ تھے یا معترض پٹیالوی نے اس تحریر کے ذریعہ اپنی اکاذیب میں اضافہ کیا ہے؟ ہم بوجوہات دوسرے پہلو کو (279)