تفہیماتِ ربانیّہ — Page 269
لیکن وہ اپنی سرکشی و طغیانی میں بڑھتے گئے۔نوبت باینجا رسید که منشی محمد یعقوب پٹیالوی نے یوحی بَعْضُهُمْ إلى بَعْضٍ کی تصدیق میں ان مفتریات دشمنانِ صداقت کو اپنی کتاب عشرہ کاملہ میں شائع کیا بلکہ آیت کی تصدیق میں مزید افتراء بھی اختیار کیا اور در حقیقت اسی فطری مناسبت سے اس زیر نظر فصل کا عنوان ” دس افتراء“ قرار دیا ہے ھے یہ تو ہے سب شکل ان کی ہم تو ہیں آئینہ دار ط معترض پٹیالوی نے آیت وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ قَالَ أَوْحِيَ إِلَى وَلَمْ يُوحَ إِلَيْهِ شَيْءٍ وَمَنْ قَالَ سَأُنْزِلُ مِثْلَ مَا انْزَلَ اللهُ - الآية ( انعام رکوع ۱۰) کے تحریر کرنے کے بعد لکھا ہے :- " اس فصل میں مرزا صاحب کے مفتریانہ اقوال دکھائے جائیں گے۔گویا یہ بتایا جائے گا کہ آیت میں جن تین قسم کے مفتریوں، ظالموں اور کا ذبوں کا ذکر ہے مرزا صاحب اپنے اقوال کی رُو سے ان میں پہلی قسم میں آتے ہیں۔“ خاکش بدہن۔ابو العطاء) (عشرہ صفحہ ۶۴) اگر چہ یہ دعوی کوئی نیا نہیں۔مکذبین قرآن پاک نے بھی راستبازی کے مجتمعہ، سچائی کے علمبردار اور پیکرِ صدق و وفا سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کہا تھا۔فرمایا : وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفَكَ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا ( الفرقان رکوع ۱ ) کہ منکر تو اس سارے کلام کو ہی ”مفتریا نہ اقوال“ کہتے ہیں۔گویا منکرین کا مفتریا نہ اقوال کا ادعاء سنت الاولین“ ہے جس کی صدائے بازگشت ہم پٹیالوی کے کھنڈرات سے سن رہے ہیں۔لیکن ناظرین انشاء اللہ تعالی آئندہ صفحات میں دیکھیں گے کہ پٹیالوی صاحب کا یہ بلند بانگ دعویٰ محض ڈھول کا پول ثابت ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اعجازی متحد یا نہ کلام اپنے مزعومہ ”مفتر یا نہ اقوال کو پیش کرنے سے پیشتر معترض پٹیالوی نے حضرت (269)