تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 242 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 242

شخص نبیوں کے مثیل ہمیشہ دنیا میں ہوتے رہتے ہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے ایک قطعی اور یقینی پیشگوئی میں میرے پر ظاہر کر رکھا ہے کہ میری ہی ذریت سے ایک پیدا ہو گا جس کو کئی باتوں میں مسیح سے مشابہت ہوگی۔“ (صفحہ ۱۵۵ طبع اول) پس متذکرۃ الصدر حوالجات میں خدا تعالیٰ کے ایک عام قانونِ قدرت کی تشریح کی گئی ہے و بس۔باقی رہا یہ سوال کہ جب یہ بات ہے تو پھر اپنے نہ ماننے والوں پر جگہ جگہ بے فائدہ زہر کیوں اُگلا گیا ہے۔سو اس کا اس جگہ کوئی تعلق نہیں۔مثیل مسیح ہزاروں ہوا کریں مگر اس سے موعود مسیح کا نہ مانا تریاق نہیں بن سکتا۔خدا کے مسیح موعود کو قبول نہ کرنا بہر حال ایک زہر ہے۔اگر حضرت مرزا صاحب نے متعدد مقامات پر اس زہر کی حقیقت واشگاف فرمائی تو اس میں حرج کیا ہے؟ معترض نے جو حوالجات ذکر کئے ہیں ان میں سے اول الذکر حوالہ کے ساتھ ہی ایک فقرہ درج ہے جو خود بخود اس اعتراض کو حل کر دیتا ہے۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار 66 66 بے سود ہے۔(ازالہ اوہام طبع اول صفحہ ۱۹۹) اسی کتاب میں دوسری جگہ تحریر فرمایا ہے ے ܀ اینک منم که حسب بشارات آمدم به عیسی کجاست تا بنبد پا بمنبرم صفحه ۱۵۸ موعودم و بگلیه ماثور آمدم به حیف است گر بدیده نه بینند منظرم رنگم چو گندم است و بمو فرق بین است و زانسان که آمد است در اخبار سرورم صفحه ۱۵۷ غرض معترض کے پیش کردہ ہر سہ حوالجات میں سے کوئی بھی مخالفین کے لئے مفید نہیں اور ان کو بطور " اختلاف بیانی پیش کرنا تو سراسر نادانی ہے۔ایک دوسری شق کا جواب ممکن ہے کہ معترض کا منشاء ان حوالوں کے پیش کرنے سے یہ ہو کہ گو یا نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری کے دوبارہ نزول کو بھی ممکن قرار دے رہے ہیں تو یہ سخت مغالطہ دہی ہوگی۔کیونکہ جس جگہ سے یہ حوالجات منقول ہیں اسی کے ساتھ بطور وضاحت حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے کہ :- ہاں ان کی یہ خاص مراد کشف والہاما وعقلاً وفرقانا مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آتی (242)