تفہیماتِ ربانیّہ — Page 241
اهَا نَتَگ کہ میں اس کو رسوا کروں گا جو تجھے ذلیل کرنا چاہے۔معترض پٹیالوی نے حضرت کے کلام میں بزعم خود اختلاف بیانی ثابت کرنی چاہی لیکن کذب بیانی کے باعث خود ذلیل ہو گیا۔اب معترض مذکور اور اس کے تمام ہمنواؤں کا فرض ہے کہ ”حمامۃ البشری سے یہ فقرہ دکھا ئیں ورنہ ہماری طرف سے صرف لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کا وعید سُن رکھیں۔(ج-د-۵) یہ تینوں حوالجات ازالہ اوہام سے ماخوذ ہیں جہاں حضرت نے لکھا ہے کہ:۔(۱) ” میرا یہ دعوئی نہیں کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہ ہوگا۔ممکن ہے کسی آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل پیدا ہو جاوے۔“ (صفحہ ۱۹۱) (۲) ”میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آجائیں۔“ (صفحہ ۱۵۰) (۳) بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجاوے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں۔کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت و بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔۔الخ (صفحہ ۱۵۰) ان عبارتوں کے بعد معترض پیٹیا لوی لکھتا ہے :- جب یہ بات ہے تو پھر اپنے نہ ماننے والوں پر جگہ جگہ بے فائدہ زہر کیوں اُگلا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۶۰) الجواب۔اِن حوالجات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک آپ کے بعد بھی مثیل مسیح آسکتے ہیں وبس۔اس عام قانون سے کس کو انکار ہوسکتا ہے خود حضرت مسیح موعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فرما چکے ہیں سے صد ہزاراں یوسفے بینم دریں چاہ ذقن واں مسیح ناصری شد از دمے او بے شمار خود ازالہ اوہام میں اس قسم کے مثیل ہونے کو ایک عام قانون بتاتے ہوئے فرمایا ہے :- ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے بعد کوئی اور بھی مسیح کا مثیل بن کر آوے کیونکہ ا ازالہ اوہام صفحہ ۱۹۱ پر یہ حوالہ نہیں ہے ہاں ۱۹۹ پر مذکور ہے۔( ابوالعطاء ) (241)