تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 240 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 240

جسمانی دونوں طور پر خلافت ہوگی۔ہم بیان جو براہین میں درج ہو چکا ہے صرف اس سرسری پیروی کی وجہ سے ہے جو علم کو قبل از انکشاف اصل حقیقت اپنے نبی کے آثار مرویہ کے لحاظ سے لازم ہے۔کیونکہ جو لوگ خدائے تعالیٰ سے الہام پاتے ہیں وہ بغیر بلائے نہیں بولتے ، اور بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے ، اور بغیر فرمائے کوئی دعوی نہیں کرتے اور اپنی طرف سے کسی قسم کی دلیری نہیں کر سکتے۔الع (ازالہ اوہام طبع اوّل صفحہ ۱۹۷-۱۹۸) اس حوالہ کی موجودگی میں براہین کا حوالہ خود بخود حل ہو جاتا ہے۔فلا اشکال فیہ۔(ب) حضرت مسیح موعود کی دوسری عبارت معترض نے بایں الفاظ درج کی ہے :- دو مسیح کی وفات ، اس کے عدم نزول ، اور اپنے مسیح ہونے کے الہام کو میں نے دس سال تک ملتوی رکھا بلکہ اس کو رد کر دیا اور حکم واضح اور صریح کا منتظر رہا۔حمامتہ البشرئی صفحه ۱۳‘ (عشره صفحه ۶۰) الجواب نفسِ اعتراض کے متعلق تو پہلے بحث ہو چکی ہے۔ہاں اس جگہ ہم یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ معترض نے نہایت خیانت سے کام لیکر فقرہ ” بلکہ اس کو ر ڈ کر دیا“ اپنی طرف سے ایزاد کر کے حضرت کی طرف منسوب کر دیا ہے۔حمامتہ البشری میں حسب ذیل عبارت ہے :- ثُمَّ مَا سْتَعْجَلْتُ فِي أَمْرِى هَذَا بَلْ أَخَرْتُهُ إِلَى عَشَرِ سَنَةٍ بَلْ زِدْتُ عَلَيْهَا وَكُنْتُ لِحُكُم وَاضِحٍ وَأَمْرٍ صَرِيحٍ مِنَ الْمُنْتَطِرِينَ۔“ (صفحہ ۱۳) ترجمہ۔پھر میں نے اپنے اس معاملہ میں جلد بازی سے کام نہیں لیا بلکہ اس کو ون اسمال بلکہ زیادہ عرصہ تک تاخیر میں رکھا اور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی واضح حکم اور صریح فرمان کا منتظر تھا۔“ گویا آپ نے اس دعوی مسیحیت وغیرہ میں جلدی سے کام نہیں لیا بلکہ حسب سنتِ انبیاء اللہ تعالیٰ کی صاف اور واضح وحی کے بعد یہ دعوی فرمایا۔لیکن اس عبارت میں کسی جگہ مذکور نہیں کہ آپ نے اس الہام کو رد کر دیا۔یہ سراسر کذب بیانی ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا تھا اِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ (240)