تفہیماتِ ربانیّہ — Page 213
وو فصل پنجم اختلاف بیانیوں کی حقیقت اے کہ ہر دم بدگمانی تیرا کاروبار ہے دوسری قوت کہاں گم ہوگئی اے ہوشیار ( حضرت مسیح موعود ) مصنف "عشرہ کاملہ نے اپنی فصل پنجم میں بزعم خویش سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے دین اختلاف بیانیاں پیش کی ہیں اور پھر آیت وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيراً لکھ کر ظاہر کیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب منجانب اللہ نہ تھے۔ہم اس موضوع پر تفصیلی بحث سے پیشتر چندا مورضرور یہ عرض کرنا چاہتے ہیں۔امر اوّل۔معترض نے حضرت کی چند تحریریں پیش کر کے ان کو متناقض بیانات قرار دیا ہے۔حالانکہ اسے اتنا بھی معلوم نہیں کہ تناقض کے تحقق کے لئے آٹھ باتوں میں اتحاد ضروری ہے۔اہل منطق کا مشہور مقولہ ہے ے در تناقض هشت وحدت شرط داں وحدت موضوع و محمول و مکاں وحدت شرط و اضافت جز و گل قوت وفعل است در آخر زماں یعنی موضوع معمول ، شرط ، مکان ، زمانہ، اضافت جزو گل اور بالقوه و بالفعل کے لحاظ سے اگر دو قضیے متفق ہوں۔مگر ان میں ایجاب و ب یعنی ” ہے اور ”نہیں“ کا بلحاظ حکم نیز قضیہ موجہ میں کیفیت اور محصورہ میں کمیت کا اختلاف ہو (213)