تفہیماتِ ربانیّہ — Page 205
درخواست بارگاہ ایزدی میں پیش کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے منظور کر لیا۔کیا خدا اپنے بندوں کی دُعا نہیں سنا کرتا؟ اور کیا اُس نے یہ نہیں فرمایا اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن ع۶) تم دُعا کرو میں قبول کروں گا تو کیا اب خدا تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) بندوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن گیا ؟ حضرت اقدس نے اسی جگہ لکھا ہے :- ”میرے پر اس وقت نہایت رفت کا عالم تھا۔اس خیال سے کہ کس قدر خدا تعالے کا میرے پر فضل اور کرم ہے کہ جو کچھ میں نے چاہا لا توقف اللہ تعالے نے اُس پر دستخط کر دیئے۔“ ( عشره صفحه ۵۰ حواله حقیقة الوحی صفحه ۲۵۵) کیا یہ الفاظ کھلے لفظوں میں تمہاری تردید نہیں کر رہے؟ اعتراض چهارم - " مرزا صاحب کے خدا کا کسی نا واقف کارافسر کی طرح منشی کے لکھے ہوئے حکم پر محض دستخط کر دینا “ الجواب - دستخط کرنا حکم کو جاری کرنے کا مترادف ہوتا ہے۔باقی یہ کہ بلا علم نا واقف کار کی طرح دستخط کر دیئے ، یہ نہ حضرت کے الفاظ میں ہے اور نہ کشف میں۔یہ محض افتراء اور جھوٹ ہے۔سو اس کا جواب لعنۃ اللہ علی الکاذبین ہے۔اعتراض پنجم - ”مرزا صاحب کے خدا کے لکھنے کے طریقہ سے ناواقفیت کہ قلم کو سیاہی لگانی بھی نہیں آئی۔زیادہ سیاہی لگا کر نا حق خراب کی اور اسراف کا ارتکاب کیا۔“ الجواب - اے عقل کے دشمن! زیادہ سیا ہی لگانا اور اس کو چھٹر کنا اس شان اور تمثل کو خارجی وجود بخشنے کے لئے تھا۔اس کو اسراف کہنا بالکل غلط ہے آپ جیسی عقل کے انسان تو سمندروں کے لاکھوں من پانی کو بھی اسراف ہی سمجھتے ہوں گے؟ اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرتا تو پھر حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری رضی اللہ عنہ اس واقعہ کے چشم دید گواہ کس طرح بنتے اور کس طرح تحریر فرماتے کہ :- " حضرت خلیفہ اسیح الثانی" کے حکم کے ماتحت اِس کشف کے متعلق ثناء اللہ کے رو برو جمع عام میں جس جگہ ثناء اللہ چاہے اور جن الفاظ (205)