تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 195 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 195

از طفیل اوست ت نورِ نور ہر نبی نام ہر مرسل بنام او جلی لیکن موجودہ وقت میں چونکہ حضرت مرزا صاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اتم ہیں اسلئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرما یا لولاك لَمَا خَلَقْتُ الافلات۔گویا در اصل مطلب یہ ہے کہ اگر دنیا سے آنحضرت کا نورمٹ جاوے تو دنیا کے قائم رہنے کی کوئی صورت نہیں اور جو شخص اس نور کولے کر قائم ہوتا ہے وہ گو یاد نیا کا محافظ ہوتا ہے اسی لئے بزرگانِ سلف نے لکھا ہے :- (۱) حضرت مجددالف ثانی نے اولیاء کی صفت میں فرمایا : ایشاں امانِ اہلِ ارض اند و غنیمت روزگاراند، بِهِمُ يُمْطَرُونَ وَبِهِمْ يُرْزَقُونَ درشان شان است ( مکتوبات جلد ۲ مکتوب ۹۲) یہ لوگ اہلِ زمین کی امان اور زمانہ کے لئے باعث غنیمت ہوتے ہیں۔ان کے ذریعہ سے ہی بارشیں ہوتی اور ان کے ذریعہ ہی مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔“ یہ ان کی شان میں وارد ہوا ہے۔(۲) حضرت مجد دصاحب کے صاحبزادہ خواجہ محمد معصوم رحمتہ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :- معاملہ انسان کامل تا بجائے میرسد کہ اورا قیوم جمیع اشیاء بحکم خلافت سے سازند، و همه را افاضه وجود و بقاء سائز کمالات ظاہری و باطنی بتوسط او می رسانند۔۔۔۔۔این عارفی که به منصب قیومیت اشیاء مشرف گشته است، حکم وزیر دارد، که مهمات مخلوقات را با و مرجوع داشته اند، هر چند انعامات از سلطان است ا تا وصول آن با مربوط بتوسط وزیر است “ ( مکتوبات حضرت مجد دصاحب جلد ۲ مکتوب ۷۴ ) (۳) سید عبد القادر صاحب جیلانی نے فرمایا ہے :- وو " بِهِمْ ثَبَاتُ الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ وَقَرَارُ الْمَوْتَى وَالْأَحْيَاءِ إِذْ جَعَلَهُمْ مَلِيْكُهُمْ أَوْتَا أَلِلْاَرْضِ الَّتِى دَحى " ( فتوح الغیب مقاله (۱۴) کهہ زمین و آسمان کا قیام ، مردوں اور زندوں کا قرار ان کے ذریعہ سے ہے کیونکہ انکے مالک (اللہ تعالیٰ) نے انکو بچھی ہوئی زمین کے لئے بمنزلہ میخوں کے بنایا ہے۔“ 195