تفہیماتِ ربانیّہ — Page 194
ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت رُوحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جاتی ہے یعنی ملائک کو اس کے مقاصد کی خدمت میں لگایا جاتا ہے اور زمین پر مستعد طبیعتیں پیدا کی جاتی ہیں۔پس یہ اس امر کی طرف اشارہ ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۹) گویا آسمان و زمین جو حضرت مرزا صاحب کی خاطر بنائے گئے وہ روحانی آسمان وزمین ہیں جو حضور کے آنے سے تیار ہوئے۔پھر دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں :۔نئی زمین وہ پاک دل ہیں جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے تیار کر رہا ہے اور نیا آسمان وہ نشان ہیں جو اُس کے بندے کے ہاتھ سے اُسی کے اذن سے ظاہر ہور ہے ہیں۔“ (کشتی نوح صفحہ ۷) پھر ایک تیسری جگہ فرمایا :- ہر ایک رشید خدا کی آوازشن لے گا اور اسکی طرف کھینچا جائے گا اور دیکھ لے گا کہ اب زمین اور آسمان دوسرے رنگ میں ہیں۔نہ وہ زمین ہے اور نہ وہ آسمان۔جیسا کہ مجھے پہلے اس سے ایک کشفی رنگ میں دکھلایا گیا تھا کہ میں نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنایا ہے۔ایسا ہی عنقریب ہونے والا ہے۔اور کشفی رنگ میں یہ بنانا میری طرف منسوب کیا گیا کیونکہ خدا نے مجھے اس زمانہ کے لئے بھیجا ہے۔لہذا اس نئے آسمان اور نئی زمین کا میں ہی موجب ہوا۔اور ایسے استعارات خدا کے کلام میں بہت ہیں۔“ مصل ( براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۸۳) ان ہر سہ حوالجات سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس کے آسمان وزمین سے وہ رُوحانی آسمان وزمین مراد ہیں جو ہر صبح عظیم الشان کے وقت میں پیدا ہوتے ہیں۔الجواب الثانی۔اگر یہ مفہوم تسلیم نہ کرو اور ظاہری آسمان وزمین پر ہی اصرار کرو تو بھی یادر ہے کہ فقرہ لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ہے اور سلسلہ کائنات اس اتم وجود کی خاطر پیدا کیا گیا۔باقی ہر نبی چونکہ آنحضرت کے نور سے ہی حصہ لے کر اور آپ کے ہی طفیل آتارہا اس لئے اپنے اپنے وقت میں وہ اس کا مصداق بنتا رہا۔ہمارے حضرت نے فرمایا ہے (194)