تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 185 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 185

ہیں اور دیوار کے متعلق فعل کو محض ارادہ الہی کہتے ہیں۔مگر آخر کار فرماتے ہیں وَمَا فَعَلْتُهُ عَنْ آمری کہ میں نے یہ سب اپنے ارادہ سے نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی کیا ہے۔اس تمام تفصیل میں بتایا گیا کہ اس وقت خضر کا ارادہ اپنا ارادہ نہ تھا بلکہ ذات باری کا ہی ارادہ تھا۔گو یادہ اس وقت مقام " أريدُ مَا تُرِيدُونَ “ پر تھے۔بخاری شریف میں حدیث قدسی ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيُذَنَّهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِئَ عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا اكْرَهُ مُسَاءَته - ( بخاری کتاب الرقاق باب التواضع ) کہ میرا مقرب بندہ جب مجھ سے مانگتا ہے میں اُسے ضرور دیتا ہوں اور جب وہ کسی شر سے پناہ مانگتا ہے تو میں اُسے پناہ دیتا ہوں اور مجھے کبھی کسی کام کے متعلق اتنا تردد نہیں ہوا جتنا کہ مومن کی جان کے متعلق ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو نا پسند کرتا ہے اور میں بھی اس کو دُ کھ پہنچانے کو برا سمجھتا ہوں۔“ یہ حدیث اپنے بیان میں نہایت تین ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں مومن کے ہر ارادہ سے موافقت کرتا ہوں حتی کہ اگر مصلحتِ الہی اور قانونِ قدرت کے ماتحت اسکو موت سے مستثنے کیا جانا مناسب ہوتا تو میں اسے موت ہی نہ دیتا۔گویا اللہ تعالیٰ کو مومن کی موت کے وقت تردد ہوتا ہے۔غرض یہ وہی مقام ہے جو اُرِیدُ مَا تُرِيدُونَ کا مقام ہے افسوس کہ تعصب کے ماتحت معترض پٹیالوی اس الہام کو شریعت کے خلاف کہتا ہے حالانکہ یہ معین شریعت ہے ے آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سوسو حجاب ورنہ قبلہ تھا تیرا رُخ کافر و دیندار کا الہام سوم کی حقیقت معترض پٹیالوی نے الہام اِنَّمَا أَمْرُكَ إِذَا اردت الخ“ کو بھی حضرت مرزا صاحب کے لئے قرار دیکر دھوکہ دیا ہے حالانکہ اس الہام میں بھی مخاطب اللہ تعالیٰ ہے اور قل محذوف ہے۔حقیقۃ الوحی سے یہ الہام نقل کیا ہے سو وہاں پر سیاق و سباق سمیت مسلسل الہامات یوں ہیں :- 185