تفہیماتِ ربانیّہ — Page 186
”اے ازلی ابدی خدا بیٹریوں کو پکڑ کے آ۔ضاقت الارض بما رحبت ، رَبِّ إِنِّى مَغْلُوبٌ فَانْتَصِل فَسَحِقُهُمْ تَسْحِيقاً ، زندگی کے فیشن سے دُور جا پڑے۔إِنَّمَا أَمْرُكَ إِذَا أَرَدُتَ شَيْئًا أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۰۴-۱۰۵) اب ایک ادنی تریر سے انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ فقرہ إِنَّمَا أَمْرُكَ‘ میں مخاطب ذات باری ہی ہے نہ حضرت مرزا صاحب، جیسا کہ سورۃ فاتحہ کی آیت اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں مخاطب اللہ تعالیٰ ہی ہے۔حالانکہ یہ خود اللہ تعالیٰ کا کلام ہے یعنی بندوں کی زبان سے ادا کیا گیا ہے۔چنانچہ حضور نے ان الہامات کے نیچے حسب ذیل ترجمہ درج فرمایا ہے :- ” اے ازلی ابدی خدا میری مدد کے لئے آ۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہوگئی ہے۔اے میرے خدا میں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے لے۔پس ان کو پیں ڈال کہ وہ زندگی کی وضع سے دُور جا پڑے ہیں۔تو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور ہو جاتی ہے۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۰۴-۱۰۵) اگر معترض کے لئے عربی الفاظ میں التباس تھا تو اس کا ترجمہ بھی موجود تھا، اس پر تدبر سے بات واضح ہو سکتی تھی۔مگر یہ کام تو وہ کرے جسے تحقیق منظور ہو۔پھر دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا أَنْ نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ( تریاق القلوب صفحه (۹) کہ ہماری ہی یہ شان ہے کہ جب ہم کوئی ارادہ کریں اور کہیں کہ ہو جا تو فی الفور ہو جاوے۔اس الہام سے بھی قطعی فیصلہ ہو جاتا ہے کہ متنازعہ فیہ الہام میں بھی ذات باری ہی مخاطب ہے۔حضرت مرزا صاحب کا اس بارہ میں کیا مذہب تھا۔یعنی آپ اختیارات کن فیکون کس کے لئے مانتے تھے؟ سنو فرماتے ہیں :- ” نہ ایک دفعہ بلکہ بیسیوں دفعہ میں نے خدا کی بادشاہت کو زمین پر دیکھا اور مجھے خدا کی اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ یعنی زمین پر بھی خدا کی بادشاہت ہے اور آسماں پر بھی اور پھر اس آیت پر ایمان لانا پڑا کہ انما أَمْرُهُ إِذَا اَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (186)