تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 180 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 180

حضرت مریم سے کہا وَ اصْطَفْكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَلَمِينَ ( آل عمران رکوع ۵) حضرت موسے سے فرمایا۔وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفسی (طه رکوع ۲) یعنی اے مریم تیرے خدا نے تجھے سب جہان کی عورتوں سے چن لیا ہے۔اے موسیٰ میں نے تجھے اپنے نفس کے لے بنایا اور برگزیدہ کیا ہے۔وَرَبِّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ (القصص رکوع ۷) عام قانون ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے مختار بناتا ہے۔معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیاروں کے لئے ایسے الفاظ استعمال فرما یا کرتا ہے۔اس کو خلاف شریعت کہنا درحقیقت لفظ شریعت کو الٹی چُھری سے ذبح کرنا ہے۔(٥) إِنَّ اللَّهَ يَقُوْمُ أَيْنَمَا قُمْتَ اس نمبر میں معترض نے الہام اِنَّ اللهَ يَقُومُ اَيْنَما قُمْتَ (ضمیمه انجام آتھم صفحہ ۱۷) پر بایں الفاظ اعتراض کیا ہے :- کیا خداوند کریم کو مرزا صاحب نے کوئی باولا اردلی مقرر کر رکھا ہے جو ہر وقت ان کے پیچھے پیچھے ہی پھرتا رہتا ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۸) الجواب : الفاظ کی متانت و شرافت کو نظر انداز کرنے کے علاوہ معترض نے صریح طور پر خیانت سے کام لیا ہے۔کیونکہ جس کتاب اور جس صفحہ سے الہام نقل کیا ہے وہاں پر اس کا صاف مفہوم بھی لکھا ہے۔حضرت فرماتے ہیں :- یعنی خدا تیرے ساتھ ہے ، خدا وہیں کھڑا ہوتا ہے جہاں تو کھڑا ہو۔یہ حمایتِ الہی کے لئے ایک استعارہ ہے۔“ (ضمیمہ انجام آتھم صفحہ ۱۷) اللہ تعالیٰ ہر جگہ قائم ہے کیونکہ وہ القیوم ہے۔مگر اس کی نصرت کو بھی قیام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔چنانچہ خود حضرت نے تحریر فرما دیا ہے۔اگر ہم دونوں فریق آسمان اور زمین کے نہ رونے کو فرعونیوں کی ہستی کے حقیر ہونے کے لئے استعارہ مان سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ خدا کے کھڑا ہونے کو اس کی حمایت کے لئے استعارہ نہ مان سکیں؟ قارئین کرام ! خدا کے پاکباز بندوں کی مخالفت سے روحانی علم سلب ہو جاتا ہے اور انسان بہکی بہکی باتیں کرنے لگتا ہے۔بالخصوص قرآن مجید کے علم کا تو ان کے پاس ذرہ باقی نہیں رہتا کیونکہ اس کے لئے گروہ مطہرین ہی مخصوص ہے۔معترض پٹیالوی نے اِنَّ اللهَ يَقُومُ اَيْنَما قُمتَ پر تمسخر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ 180)