تفہیماتِ ربانیّہ — Page 178
اس جگہ شریعت کے مدعی معترض پٹیالوی اور ان کے ہمنوا د یو بندیوں کے لئے ہم ایک اور آیت بھی درج کرتے ہیں شاید وہ اسی سے روشنی حاصل کر سکیں۔رب العرش فرماتا ہے :- فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ ( الدخان ١٤) فرعونی مر گئے اور ان پر نہ آسمان رویا نہ زمین روئی۔اس آیت سے التزاما سمجھا جاتا ہے کہ مومن پر آسمان بھی روتا ہے اور زمین بھی۔چنانچہ امام مجاہد کا قول ہے :- "إِنَّ السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ تَبْكِيَانِ عَلَى الْمُؤْمِنِ ارْبَعِينَ صَبَاحًا - << (فتح البیان جلد ۸ صفحه ۳۲۶) کہ مومن کی موت پر چالیس دن تک آسمان وزمین روتے ہیں۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے :- مَا مَاتَ مُؤْمِنْ فِي غُرُبَةٍ غَابَتْ عَنْهُ فِيْهَا بَوَاكِيْهِ إِلَّا بَكَتْ عَلَيْهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ۔“ ( فتح البیان جلد ۸ صفحه ۳۲۶) کہ جو مومن مسافری میں ایسی جگہ مرجائے جہاں اُس پر رونے والے نہ ہوں تو اُس پر آسمان وزمین روتے ہیں۔“ اب سوال یہ ہے کہ آسمان وزمین کا رونا کس نوع کا ہے؟ اور پھر اگر آسمان وزمین کی معیت سے قدرت و حکم میں شرکت ثابت ہوتی تھی تو آسمان وزمین کے رونے سے تو خالقیت ہی ثابت ہو جائے گی ؟ فتدبر و تفکر ! اگر یہ کہا جائے کہ ہم اس جگہ اہل السماء والارض مراد لیں گے تو پھر الہام زیر نظر میں بھی حذف مضاف ماننے سے کیا حرج لازم آتا ہے؟ اعتراض کے دوسرے حصہ میں بقول خود " کم علم منکر پٹیالوی نے لفظ ھو پر اعتراض کیا ہے۔ایک گرد اور یا نائب تحصیلدار اور عربی کی غلطیاں نکالنا؟ ے بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی کس سادگی سے کہتے ہیں یہاں ھما چاہئے۔منشی صاحب! اگر آپ کا قاعدہ ہی درست ہے تو فرمائیے کہ قرآن مجید کی بھی 178)