تفہیماتِ ربانیّہ — Page 171
وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے ٹور سارا نام اُس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے چند شعروں کے بعد سے اس ٹور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہے (رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم ) اندریں صورت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر افضلیت کے ادعاء کا الزام ایک گندہ، نا پاک اور سراسر افتراء سے پر الزام ہے۔اے کاش کہ ہمارے مخالف تھوڑی سی دیانتداری سے بھی کام لیں تو اس قدر مغالطہ دہی کے مرتکب نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سب انبیاء کی تعریف کی معترض کے اعتراض میں بین السطور یہ مذکور ہے کہ گویا ( نعوذ باللہ ) اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کی تعریف نہیں فرمائی حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔اللہ تعالیٰ نے انبیاء و مرسلین کے علاوہ اپنے مومن بندوں کی بھی تعریف فرمائی ہے۔انبیاء کے حق میں قرآن مجید میں بکثرت آیات موجود ہیں۔مثلاً حضرت ابراہیم کے متعلق فرمایا۔اِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّالٌ مُّنِيبٌ ( بود رکوع ۷ ) پھر فرمایا إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا ( مریم رکوع (۴) حضرت اسمعیل کے متعلق فرمایا وَاذْكُر في الكتب اسمعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ( مریم رکوع ۴) حضرت اور بیس کے بارہ میں فرمایا إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ( مریم رکوع ۴) حضرت نوح کے متعلق فرما یا انهُ كَانَ عَبْد أَشَكُورًا ( بني اسرائیل رکوع ۱ ) حضرت سلیمان اور حضرت ایوب کے حق میں وارد ہوا ہے نِعم العبد انه آواب (ص رکوع (۴) حضرت داؤد کے ذکر پر فرمایا وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاؤُدَ ذَالْأَيْرِ إِنَّهُ آواب (ص رکوع ۴) حضرت اسحق " ، حضرت یعقوب اور حضرت ابراہیم وغیرہ کے ذکر پر فرمایا إِنَّا أَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ وَإِنّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ (ص) رکوع ۴) خود سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں علاوہ دیگر آیات کے فرما یا لکن رسُول اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ وَكَانَ اللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ( احزاب رکوع ۵) حضرت موسیٰ کے متعلق فرمایا إِنَّهُ كَانَ مُخلصًا ( مریم رکوع ۴) 171۔